Al-Risala · May 1977 · page 60

غلط استدلال

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۶۰

ہے، سماج اس میں جو در نار کا بور ا، مرسر محمد فاروق ایم اے:۔ مددگاروں خان ایم اے ایک خط میں اپنے ایک رفیق کے والد کے انتقال پر تعزیتی خط لکھنے بیٹھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے میں خود اپنے آپ سے کچھ کہنے چلا ہوں ۔ جب ہم کسی سے کچھ کہتے ہیں تو اس شخص سے کہیں زیادہ اس کا مخاطب خود ہم ہوتے ہیں ۔ مکتوب الیہ کے والد کا انتقال ہی سما جائیں ۔ جو دنیا کے بعد ہے اسے ہم اپنی ذات سے الگ نہ دیکھیں ۔ ساری کلفتوں اور غموں کا سبب یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو اتنا تنگ و تاریک رکھتے ہیں کہ اس میں ہمیں دنیا تو دکھائی دیتی ہے۔ اس کے آگے جو ہے ، نظر نہیں آتا۔ وہ اس سے چھوٹ جاتا ہے ، باہر رہ جاتا ہے ۔ دیار غیر معلوم ہوتا ہے ، حالانکہ وہ اپنا دیار ہے ، اس دنیا سے کہیں زیادہ اپنا ہے ۔ اس دنیا میں تو ہم بہت تھوڑا ظاہر ہو پاتے ہیں ۔ کامل اظہار تو وہاں ہی ممکن ہے۔ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لینے کی ۲۳ اور ۲۴ دسمبر 1976ء کی درمیانی شب میں ہوا۔ آپ کے والد محترم کے انتقال کی خبر ملی۔ والد کا انتقال زندگی کا ایک خاص تجربہ ہوتا ہے۔ اس تجربہ سے آپ کو گزرنا تھا گزرے۔ خدا مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔ دنیا سے ان کی واپسی درحقیقت زندگی کے مزید امکانات کی خبر ہے۔ پھر زندگی میں اگر یہ واپسی نہ ہو تو زندگی اجیرن ہو جائے، دشوار ہو جائے ۔ جیون میں رس تو اسی واپسی کی وجہ سے ہے یہ واپسی محض واپسی نہیں ایک بڑے امکان کی طرف پیش قدمی ہے۔ موت زوال نہیں کمال کی خبر ہے۔ اس کمال کی خبر جس کی متحمل موجودہ دنیا نہیں ہو سکتی۔ موجودہ دنیا تو صرف اس کی طرف ہمارا ذہن موڑ سکتی ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کے لیے تیار ہوں۔ بیدار ہوں۔ بصورت دیگر ہم اس کے اشاروں کو سمجھنے سے قاصر ہی رہیں گے۔ موت زندگی کی شام نہیں۔ زندگی کی صبح ہے۔ صبح ہونے سے ہم غمزدہ کیوں ہوں۔ ہمارا دل تو اتنا وسیع ہونا چاہیے جس میں دنیا اور ما بعد دنیا دونوں غلطی سے سب سے بڑا نقصان یہ نہیں ہوتا کہ آدمی عام معنی میں دنیا پرست ہو جاتا ہے بلکہ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا فکر اور اس کا نظریہ غلط ہو جاتا ہے۔

مومن ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آدمی کو معلوم ہو جائے کہ وہ اس دنیا میں غیب کی مخلوق ہے۔ بظاہر وہ دنیا میں دکھائی دے لیکن دنیا میں رہتے ہوئے بھی وہ حقیقت میں عالم غیب میں رہنے لگے۔ نماز اسی بڑی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ نماز وہ خوشبو ہے جو اس عالم کی نہیں ہے۔ یہ ایسی روشنی ہے جس کا تعلق کسی دوسرے عالم سے ہے، جس کو ہم عالم غیب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا کوئی اور نام بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔ نماز کے ذریعہ سے ہم دنیا میں اس عالم کو اتار لاتے ہیں۔ یہ آثار نے کا عمل بار بار دہرانے کا منشاء صرف یہی نہیں ہے کہ اس عالم میں رہنے کی مشق ہو بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اس عالم میں رہنا ہمیں آجائے۔ امید ہے ان باتوں پر غور فرمائیں گے۔ آپ جیسے ذہین آدمی اگر اس طرف توجہ نہ دیں تو ذوق صحیح اپنا ٹھکانہ کہاں ڈھونڈے گا۔ (دہلی ۳۰ دسمبر ۱۹۷۶ء)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page