تعارف و تبصرہ
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۶۳
تعارف و تبصرہ
امت مسلمہ کی رہنمائی حضرت عمر کی تعلیمات میں از مولانا محمد تقی امینی صفحات ۱۰۴، قیمت دو روپے پتہ: ادارہ احتساب، امینی منزل، دودھ پور روڈ، علی گڑھ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس کب میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ کو رہنمائی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اصحاب رسول کی زندگیاں، اگر کسی تعبیری اضافے کے بغیر، امت کے سامنے لائی جائیں تو اس میں شک نہیں کہ اصلاح افکار اور تعمیر حیات کے لئے اس سے بڑا خزانہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ حضرت عمر سے ایک شخص نے مصر کے حاکم اعلیٰ گورنر عیاض بن غنم کی ان الفاظ میں شکایت کی :
"اے عمر ! کیا حاکموں سے صرف حلف لے لینے سے آپ کو اللہ کی باز پرس سے نجات مل جائے گی کیا آپ کو معلوم نہیں کہ العصا واصرع هذالغنم واسق من مربك اپنی قمیص اتار دو اور پھر کملی کا جبہ اور بکریوں کا گلہ منگوا کر حکم دیا کہ کملی کا جبہ پہن لو، اور بکریوں کا گلہ اور عصا لے کر جنگل کی طرف جاؤ وہاں جا کر بکریاں چراؤ اور راستہ سے جو گزرے اس کو پانی پلاؤ۔ اسی طرح حضرت سعد بن وقاص کے خلاف لوگوں نے شکایت کی کہ ”وہ گھر کے اندر عدالت کرتے ہیں باہر نہیں کرتے، یہ سن کر حضرت عمر ہ نے محمد بن مسلمہ ہ کو بلا کر کہا: اذهب الى سعد بالكوفة وحرق عليه قصره ولا تحدث حدثا حتى تاتینی سعد ہ کے پاس کوفہ جاؤ اور ان کے محل کو جلا دو، وہاں اور کوئی نئی بات نہ کرنا یہاں تک کہ میرے پاس آجاؤ۔ محمد بن مسلمہ ہ حکم کی تعمیل میں کوفہ گئے، جہاں ایک بنطی سے لکڑی کا گٹھا خریدا اور محل کو آگ لگادی، سعد رضہ نے نکل کر پوچھا ماهذا یہ کیا حرکت ہے ؟
ابن مسلمہ نے جواب دیا
عزيمة (امیر المومنین امیر المومنین رضہ کا حکم ہے، عیاض بن غنم رض باریک کپڑا پہنے ہیں اور دروازے پر دربان رکھا ہے۔“ یہ سنتے ہی حضرت عمر رض نے محمد بن مسلمہ رض (سفیر) کو حکم دیا کہ ”عیاض بن غنم“ جس حالت میں ہوں مہلت دیئے بغیر میرے پاس حاضر کرو، محمد بن مسلمہ جب مصر پہنچے تو واقعی عیاض بن غنم رض باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ حسب الحکم مہلت دیئے بغیر اسی حالت میں لے آئے گئے۔ حضرت عمر رض نے دیکھنے کے بعد فرمایا:
انزع قميصك ودعا بمدرعة صوف وبريضاعة من غنم ودعصا فقال البس هذه المدرعة وخذ هذه یہ سن کر وہ خاموش ہوگئے اور محل جل گیا، سعد رضیہ نے ابن مسلمہ رہہ کو واپسی کے وقت سفر خرچ دینا چاہا، لیکن انھوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ واپس آنے کے بعد حضرت عمر رض نے سفر خرچ کے بارے میں پوچھا، هلا قبلت نفقة تم نے خرچ کیوں نہیں قبول کیا جواب دیا، انك قلت لا تحدث عن حد تا حتی تاتینی آپ نے کہا تھا کہ کوئی نئی بات نہ کرنا تا یہاں تک کہ میرے پاس آجاؤ کتاب میں اس قسم کے اقوال اور واقعات کثرت سے درج ہیں جن کو آنسوؤں سے تر ہوئے بغیر آدمی ختم نہیں کر سکتا۔