Al-Risala · May 1977 · page 4

ہم کس بات کی گواہی دے رہے ہیں

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴

اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں اسلامی غلبہ سے پہلے عراق قدیم ساسانی سلطنت کا ایک حصہ تھا، کلہ میں سعد بن ابی وقاص کی سرکردگی میں لشکر اسلام عراق کی طرف بڑھا۔ دوسری طرف ساسانی فوج کا سردار رستم تھا۔ جنگ سے پہلے، مختلف اسلامی سفار رستم کے دربار میں بات چیت کے لئے گئے۔ انھیں میں سے ایک ربعی بن عامر بھی تھے۔ رستم نے ربعی بن عامر سے پوچھا: تم کو کیا چیز یہاں لے آئی ہے۔ انھوں نے جواب میں جو تقریر کی، اس کا ایک فقرہ یہ تھا :

الله ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة الله ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الادیان الی عدل الاسلام فازسلنا بدینه الى خلقه لندعوهم اليه (ابن کثیر البدایہ والنہایہ ، جلد ، صفحه (۳۸) اللہ نے ہم کو بھیجا ہے کہ جس کو رہ چاہے، بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ دنیا کی تنگی سے اس کی فراخی کی طرف اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں۔ پس اس نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔

ہم کس بات کی گواہی دے رہے ہیں

مغلوں کے مقابلہ میں جب مرہٹے اور سکھ ابھرے تو مسلمان ان کے خلاف بھڑک اٹھے۔ ددیں سے انگریز آکر ملک کے اوپر قابض ہو گئے تو ان کو ہٹانے کے لئے انھوں نے ساری دنیا میں ہنگامہ مچا دیا۔ کانگریس حکومت کے تحت ان کے ساتھ جبر و امتیاز کا سلوک ہوا تو اس کو انتخابی شکست دینے کے لئے ان کے درمیان زبردست طوفان اٹھ کھڑا ہوا یہ ہے مسلمانانِ ہند کی دوسو سالہ سیاست کا خلاصہ۔ اس پوری مدت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خوف خدا اور فکرِ آخرت کو دعوتی مشن بنانے پر ان کے درمیان آگ بھڑکی ہو، آنے والے یوم الحساب کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے وہ بے تابان اٹھ کھڑے ہوئے ہوں۔ سیاسی مسائل اور اقتصادی مفادات کا معاملہ ہو تو فوراً ان کے اندر عمل کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ آخرت کے مفادات اور جنت اور جہنم کے مسائل اس سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔ مگر ان کی خاطر سرگرم ہونا وہ نہیں جانتے۔ مسلمان کا معاملہ عام قوموں سے مختلف ہے۔ وہ " شهد اللہ اعلا في الارض " ہیں ۔ ان کو آخرت کے مسائل کی گواہی دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ مگر وہ لوگوں کے سامنے دنیائے مسائل کی گواہی دینے میں سارا زور دکھارہے ہیں۔ یہ الٹی گواہی نبی آخرالزماں کی امت کے لئے جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر مسلمان اپنی اس روش سے باز نہ آئے تو اندیشہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی۔ اس قسم کی سرگرمیاں خدا کے غضب کو بھڑکانے والی ہیں نہ کہ اس کی رحمت و نصرت کو کھینچنے والی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page