جولائی 1977 ، صفحہ 7
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۷
خدائی پیغام رسانی کا کام، انسانیت کے آغاز سے لے کر ساتویں صدی عیسوی تک، پیغمبروں کے ذریعہ ہوا ہے۔ نبوت کی سطح پر اس کام کی انجام دہی کا یہ فائدہ تھا کہ اس کو معجزاتی تائید کی قوت حاصل رہتی تھی۔ نبی جب اپنی مدعو قوم کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتا تو اس کے ساتھ وہ ایسے معجزات پیش کرنے پر قادر ہوتا جو اس کی دعوت کی صداقت پر غیر معمولی برہان بن سکیں۔
ختم نبوت کے بعد یہ صورتِ حال ہو گئی کہ دعوت کی ذمہ داری تو بدستور اپنی پوری شدت کے ساتھ باقی ہے، مگر دعوت کے حق میں معجزاتی تائید کا وعدہ باقی نہیں رہا۔ ایک حکومت جب کسی کو فارسٹ افسر مقرر کرتی ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کو ضروری اسلحہ بھی دیتا ہے تاکہ جنگل میں درندوں کے متوقع حملہ کے وقت وہ اپنا دفاع کر سکے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن تھا کہ وہ ہستی جو ساری رحمتوں کا خزانہ ہے وہ اس پہلو کو بھول جائے، وہ ہم کو ذمہ داری سونپ دے مگر ہماری ضرورتوں کا انتظام نہ کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ بعد کو آنے والے داعیوں کے لئے اللہ نے ایسا انتظام کیا جو پچھلے تمام انتظامات سے بھی زیادہ بڑا تھا۔ اللہ نے اس مقصد کے لئے خود انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا تاکہ دعوتی مشن کے حق میں وہ تائید ہم کو معمولی حالات میں مل جائے جس کو پچھلے لوگ صرف غیر معمولی حالات میں پانے کی توقع کر سکتے تھے۔ اگر چہ موجودہ دور میں ہم اس راز کو سمجھ نہ سکے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔
قرآن میں شرک کو ظلم عظیم (۳۱ : ۱۳) کہا گیا ہے۔ اس کے بالمقابل توحید کی بابت ارشاد ہوا ہے کہ وہی کل صداقت ہے (۱۰ : ۳۲)۔ قدیم ترین زمانہ سے انسانی زندگی کا نظام شرک کی بنیاد پر قائم چلا آ رہا تھا۔ تمام پیغمبر جو خدا کی طرف سے آئے، وہ اسی لئے آئے کہ انسان کو شرک کی برائیوں سے آگاہ کریں اور توحید کی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کریں تاکہ انسان کے اوپر دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کا دروازہ کھل سکے۔ مگر قوموں نے پیغمبروں کی بات چلنے نہ دی۔ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پیغمبر ہیں جن کو خدا کی خصوصی نصرت کے تحت یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ انھوں نے شرک کو مقام اقتدار سے ہٹایا اور توحید کی بنیاد پر ایک مکمل انقلاب پیدا کر دیا (وَ قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ) یہ انقلاب جو ساتویں صدی عیسوی میں ظہور میں آیا، اس کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ اس نے تاریخ انسانی میں پہلی بار مظاہر کائنات کے تقدس کو ختم کر دیا اور انسانیت کے لئے اُس مادی نعمت کے ظہور کی راہ ہموار کی جس کو جدید سائنس کہا جاتا ہے۔
جولائی 1977 ، صفحہ 7
‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues