Al-Risala · July 1977 · page 6

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۶

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۶

صواب ہو ۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی۔ قبر میں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا ؟ آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی، برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔

دہ پھیل رہے ہیں۔ گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آرہا ہے شرک و بت پرستی پھیل رہی ہے۔ حلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے۔ لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں۔ اس کے بعد حضرت شاہ صاحب نے فرمایا ”یوں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کررہا ہوں کہ عمر ضائع کردی“ * حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے الفاظ یہ تھے:

اللہ تعالیٰ نہ شافعی کو رسوا کرے گا نہ ابو حنیفہ کو ، نہ مالک کو نہ احمد بن حنبل کو ، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے جن کے ساتھ اپنی مخلوق کے بڑے حصے کو لگا دیا ہے ، جنہوں نے نور ہدایت چار سو پھیلایا ہے۔ جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں تمام انسان بنیادی طور پر ایک ہی قسم کا جسمانی ڈھانچہ رکھتے ہیں۔ تاہم کوئی بھی دو انسان بالکل ایک دوسرے کے مشابہ نہیں۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ شخصی انفرادیت صرف آج کے لوگوں میں نہیں ہے۔ ہر وہ انسان جو کبھی اس زمین پر رہا ہے، مکمل طور پر ایک منفرد شخصیت کا مالک تھا۔ گزریں۔ اللہ تعالٰی ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا۔ کہ وہاں میدان محشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے کہ ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھا یا اس کے برعکس، یہ نہیں ہوگا۔

تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی۔ اپنی قوت صرف کردی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی ۔ مجمع علیہ اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں ، جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج یہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ یہ ضروریات دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہورہی ہیں اور اپنے واغیار ان کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہر آدمی بے مثال اور ناقابلِ اعادہ ہے۔ یہی صورت حال مستقبل میں بھی باقی رہے گی ۔

بے شمار شہادتوں سے ثابت ہوا ہے کہ انسان کے جسم اور ذہن میں پچھلے ایک لاکھ سال کے اندر کوئی قابلِ لحاظ تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ پتھر کے زمانہ میں انسانی جسم جس طرح قدرتی حالات کے تحت عمل کرتا تھا۔ آج بھی وہ ویسا ہی کرتا ہے اس پر، مثال کے طور پر، چاند کی گردش کا اثر پڑتا ہے۔ جیٹ جہاز جب تیزی سے اڑ کر ہم کو دن کے وقت رات کے لمحہ میں داخل کر دیتا ہے تو انسانی جسم میں عضویاتی کش مکش شروع ہو جاتی ہے۔ اس طرح کے واقعات ارتقا پسند علماء کے تمام قیاسَات کو باطل ثابت کرتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues

Printed page