جولائی 1977 ، صفحہ 7
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۹
انسان کے اندر کوئی برائی نظر آئی اس کے متعلق یقین کر لیا گیا کہ اس کو کوئی خاص آسمانی حیثیت حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں۔
اسلامی انقلاب کے بعد جب شرک کا نظام ٹوٹا اور توحید کو غلبہ حاصل ہوا تو انسانی عظمتوں کو فوق الفطری معتقدات سے وابستہ کرنے کا ذہن بھی ختم ہو گیا۔ اب سارے انسان ایک خدائے برتر کی یکساں مخلوق قرار پائے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق کرنے کی وہ بنیاد باقی نہ رہی جس کی وجہ سے تاریخ کے نامعلوم زمانوں سے انسانیت اونچ نیچ میں مبتلا چلی آ رہی تھی۔ انسان اپنے حقیقی شرف سے محروم تھا ۔ پیغمبر اسلام نے توحید کی بنیاد پر جو انقلاب برپا کیا، اس نے خدا کی برتری اور اس کے مقابلہ میں سارے انسانوں کی یکسانیت اس طرح ثابت کی کہ قدیم روایتی نظام بالکل ٹوٹ کر رہ گیا ۔ انسانیت ایک نئے راستہ پر چل پڑی۔ لوگوں کے عقائد بدل گئے ۔ پیشوائی اور سرداری کا سابقہ نظام درہم برہم ہو گیا ۔ وہ شہنشاہیتیں زمیں بوس ہو گئیں جو فوق الفطری عظمتوں کا یقین دلا کر لوگوں کے اوپر حکومت کر رہی تھیں ۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار اس تبدیلی کا آغاز ہوا جو ساری دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز بنا۔
روسو نے اپنی کتاب اس مشہور فقرہ سے شروع کی ہے:
” انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں “ یہ فقرہ در حقیقت خلیفہ ثانی عمر فاروق - ۵۸۱) کے اس فقرہ کی بازگشت ہے جو انھوں نے روسو سے گیارہ سو برس پہلے محض ایک خیالی نظریہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ریاست کے حاكم اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے ماتحت افسر سے کہا تھا: متی عبدت الناس وقد خلقتہم امہاتہم احرارا تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنا لیا، حالاں کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا۔
تاریخ انسانی کو پیغمبر اسلام کی اس دین کا اعتراف غیر مسلم محققین نے عام طور پر کیا ہے ۔ ڈاکٹر ہیر لال چوپڑا (کلکتہ یونیورسٹی) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
MODERN HISTORY ATTRIBUTES LIBERTY, EQUALITY AND FRATERNITY TO BE THE OUTCOME OF THE FRENCH REVOLUTION, BUT THE FIRST PERSON TO PROCLAIM IT WAS THE FOUNDER OF ISLAM FOURTEEN CENTURIES AGO. Illustrated Weekly of India, April 15, 1973 جدید تاریخ آزادی، مساوات اور اخوت کو فرانسیسی انقلاب کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ مگر پہلا شخص جس نے اس کا اعلان کیا وہ اسلام کے بانی تھے جو چودہ سو سال پہلے پیدا ہوئے ۔
یہ واقعات جو عالم طبیعی اور عالم انسانی میں پیش آئے، یہ دراصل توحید کے پیدا کردہ انقلاب کے دنیوی نتائج تھے۔ امریکہ سے ایک انسائیکلو پیڈیا چھپی ہے جس کا نام ہے: "مین اینڈ ہرگا ڈس “، اس میں مختلف مذاہب پر مقالے ہیں۔ اسلام پر جو مقالہ ہے اس کے عیسائی مقالہ نگار نے اسلامی انقلاب کے ان نتائج کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے : ITS ADVENT CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY (P.389)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues