Al-Risala · July 1977 · page 10

جولائی 1977 ، صفحہ 7

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰

اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔

پیغمبر آخرالزماں اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ جو انقلاب برپا کیا گیا، وہ اگرچہ اصلاً توحید اور آخرت پر مبنی ایک انقلاب تھا، مگر اس نے بہت سے دور رس دنیوی نتائج بھی پیدا کئے۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے دنیوی نتائج میں سب سے اہم وہ نتائج ہیں جنہوں نے قدیم زمانہ کے سماجی اور اجتماعی نظام کو اس طرح بدل دیا کہ وہ حالات ہی ختم ہو گئے جن میں دعوت حق کا کام ایک انتہائی مشکل کام بن گیا تھا۔ اب دعوت حق کا وہ کام ایک سادہ اور آسان کام بن چکا ہے جس کے لئے اٹھنے والوں کو قدیم زمانہ میں فرعون کے اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا تھا: میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھاوں گا۔ (شعراء - ۴۹) اسی طرح اس انقلاب نے قدیم زمانہ کے اس فکری ڈھانچہ کو بدل دیا جس نے قیاسات اور توہمات کو علم کا درجہ دے رکھا تھا۔ کائنات میں چھپی ہوئی خدا کی تصدیقی نشانیاں لوگوں کے سامنے آگئیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دعوت حق کا کام جس کے لئے اس سے پہلے معجزاتی استدلال کی ضرورت ہوتی تھی، اب ممکن ہوگیا ہے کہ خود علم انسانی کے ذریعہ اس کو ثابت اور مدلّل کیا جاسکے۔

تاریخ کا رخ موڑنے کا یہ عمل جو ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا، موجودہ زمانہ میں وہ اپنی آخری انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ خدا کے دین کی خاطر کام کرنے والوں کے لئے اب خود انسانی اسلحہ خانہ میں ہر قسم کے تائیدی ذرائع موجود ہیں۔ قانونی اور سماجی انقلابات نے اب اس کا موقع دے دیا ہے کہ دعوت اسلام کا کام اس طرح کھلے میدان میں کیا جائے جہاں کوئی فرعون اور کوئی نمرود راستہ روکنے کے لئے موجود نہ ہو۔ حقائق کی دنیا جواب انسان کے علم میں آئی ہے وہ نہ صرف تمام دوسرے ادیان کو بے اعتبار ثابت کر رہی ہے بلکہ مثبت طور پر اس نے دین حق کی صداقت پر تمام دلائل جمع کر دیئے ہیں۔ یہ ایک نہایت وسیع مضمون ہے، تاہم اس خاص پہلو سے یہاں ہم اس انقلاب کے بعض نتائج کا ذکر کریں گے ا۔ سیاسی ادارہ کو فوق الفطری معتقدات سے جدا کرنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار ہزار برس پہلے قدیم عراق کے دارالسلطنت (آر) کے لوگوں کو پکارا کہ صرف ایک خدا ہے جو نفع و ضرر کا مالک ہے۔ ان باتوں میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس لئے تم اسی سے حاجتیں مانگو اور اسی کی پرستش کرو۔ اس دعوت توحید کے خلاف اس وقت کے مشرک بادشاہ نمرود کلدانی نے اتنا شدید رد عمل ظاہر کیا کہ آپ کو آگ کے الاؤ میں ڈال دیا۔ آج بھی ہندوستان میں شرک کا عقیدہ بڑے پیمانہ پر پایا جاتا ہے۔ لیکن آج آپ یہاں دعوت ابراہیمی کو لے کر اٹھیں تو نئی دہلی کے حکمراں آپ کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ زمانی تبدیلی ہے۔ نمرود کے زمانہ میں شرک ایک سیاسی عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب کہ آج وہ صرف ایک محدود مذہبی عقیدہ ہے۔ نمرود، قدیم زمانہ کے دوسرے بادشاہوں کی طرح، لوگوں میں یہ عقیدہ بٹھا کر ان کے اوپر حکومت کر رہا تھا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے، اس لئے اس کو حکمرانی کا فوق الفطری حق حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں کے نزدیک اس قسم کے کسی عقیدہ کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues

Printed page