Al-Risala · January 1977 · page 33

نمائندے یہ تھے :-

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۳

لی بلین انتہائی بڑے بڑے ستارے ہیں۔

کہکشاں کے اندرستارے اتنے بعید فاصلوں پر واقع ہیں کہ ہمارے سورج سے قریب ترین ستارہ کی روشنی جو ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہو، زمین تک اس کو پہنچنے میں چار سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔

اجرام سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اجرام سماوی کی باہمی کشش ہے۔ ہماری کہکشاں کی چوڑائی فلکیاتی پیمائش کے قاعدہ کے مطابق ایک بلین سال نور ہے دم دار ستارے بھی نظام شمسی کا حصہ ہیں، مریخ کا فاصلہ زمین سے ۴۹ ملین میل ہے ۔

سورج کا قطر ۸۶۴۰۰۰ میل ہے۔ نظام شمسی کے مادہ (ماس) کا ۹۹ فیصد حصہ سورج پر مشتمل ہے۔ سورج کا مادہ، زمین کے مادہ سے ۳۰۰,۰۰۰ گنا زیادہ ہے۔ اندرونی سیارے (مرکری، وینس، مریخ، زمین) تقریباً ایک حجم کے ہیں ۔ اس کے بعد چار بڑے سیارے جو پیٹر۔ سیٹرن، یورینس اور نیپچون ہیں۔ پلوٹو، جو سب آخر کا سیارہ ہے، اس کا حجم تقریباً زمین کے برابر ہے۔ کائناتی گردش کا نظام ناقابل قیاس حد تک یعنی۰۰۰۰۰۰۵۷۹۷۴۰۰۰۰۰۰۵۸۶ میل۔

سورج اس کہکشاں کا نسبتاً چھوٹا ستارہ ہے جس کی حرارت چودہ ملین ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ سورج کے گرد نو سیارے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار چھوٹے چھوٹے سیارچوں کا ایک حلقہ بھی اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ اکثر سیاروں کے ساتھ چاند بھی ہیں۔ ہماری زمین کا چاند ۱، مریخ ۲، جوپیٹر ۱۳، سیٹرن ۱۰، یور ینس ۵، نیپچون ۳، اس کے علاوہ ایک لاکھ ملین حیرت انگیز ہے، چاند اپنے سیارے کے گرد گھوم رہا ہے۔ سیارہ سورج کے گرد، سورج اپنے پورے نظام کو لئے ہوئے کہکشاں کی پلیٹ پر گردش کر رہا ہے۔ پھر کہکشاں اپنی ساری وسعتوں اور بے شمار ستاروں کے ساتھ وسیع تر دائرہ میں گردش کر رہی ہے۔ یہ گردش اتنی عجیب ہے کہ بعض اوقات ایک پورا کہکشانی نظام گردش کرتے ہوئے دوسرے کہکشانی نظام کے اندر سے گزر جاتا ہے اور کوئی حادثہ پیش نہیں آتا۔ یورنیس ۵، نیچون ۳۷۵ اس کے علاوہ ایک لاکھ سن لذر چاہا ہے اور ٹوبی حادثہ میں ہیں اماں

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page