Al-Risala · January 1977 · page 32

نمائندے یہ تھے :-

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۲

کائنات کا عظیم اور حیرت انگیز کار خانہ گواہی دے رہا ہے کہ اس کا کوئی چلانے والا ہے نظام شمسی، اجرام سماوی کے اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس کے درمیان ایک روشن ستارہ ہو اور اس کے گرد غیر روشن سیارے مخصوص مدار میں گھوم رہے ہوں۔ معلوم نظام شمسی ابھی تک صرف ایک ہے جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ تاہم فلکیات دانوں کا قیاس ہے کہ اس قسم کے مزید ایک ملین نظام شمسی کائنات میں ہو سکتے ہیں۔ نظام کہکشاں اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس میں روشن ستارے ایک مخصوص نظام کے اندر گردش کر رہے ہوں۔ ہماری قریبی کہکشاں جو رات کے وقت سفید دھاری کی شکل میں دکھائی دیتی ہے ، اس کے اندر تقریباً ایک کھرب آدمی اگر کائنات کی وسعتوں پر غور کرے تو اس کو اپنا وجود اتنا حقیر نظر آئے گا کہ اپنی بڑائی کا کوئی بھی خیال اس کو مضحکہ خیز حد تک بے معنی معلوم ہوگا۔

عطارد (مرکری)

زہرہ (وینس)

زمین مریخ (مارس)

مشتری (جوپیٹر)

زحل (سیٹرن)

یورینس نیپچون پلوٹو اس خاکے میں درمیان میں سورج ہے۔

اس کے گرد نظام شمسی کے نو سیاروں کو بیضوی دائرہ میں گردش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سورج سے ان سیاروں کا فاصلہ بالترتیب یہ ہے:

ستارے ہیں، ہمارا نظام شمسی اسی میں واقع ہے ۔ سورج ہماری کہکشاں کی پلیٹ پر اپنے تمام سیاروں کو لئے ہوئے ۵۷۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑ رہا ہے۔ ہماری کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ اس تیز رفتاری کے باوجود کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر پورا کرنے میں ہمارے نظام شمسی کو ۲۰ کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ایک بلین سے زیادہ کہکشائیں وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں اور ہر کہکشاں کے اندر ۷۱۰ ملین میل " ۹۳ " ۱۴۳ " ۴۸۲ " ۸۸۷ " ۱۷۹۰ " ۲۸۰۰ " ۳۶۸۰

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page