۵۔ افسانوی طرزِ فکر کے بجائے تاریخی طرزِ فکر
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۴
میں شروع ہوا اور اب بیسویں صدی کے نصف آخر میں وہ بالکل ختم ہو چکا ہے۔
۵۔ افسانوی طرزِ فکر کے بجائے تاریخی طرزِ فکر
قدیم زمانہ میں روایت اور تاریخ میں فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ لوگ ایک بے اصل افسانہ کو بھی اسی طرح مانتے تھے جس طرح ایک ثابت شدہ تاریخی واقعہ کو ماننا چاہئے۔ سائنسی اور علمی نقطۂ نظر نے جب حقیقت پسندی کا ذہن پیدا کیا تو اس کے ساتھ فطری طور پر یہ ذہن بھی پیدا ہوا کہ انسانی واقعات کو مورخانہ انداز سے سمجھا جائے۔ تاریخی تحقیق کی یہ مہم مذہب تک بھی پہنچی اور وہ فن پیدا ہوا جس کو تنقید عالیہ (HIGHER CRITICISM) کہا جاتا ہے۔ اس شعبہ تاریخ کے تحت جب مختلف مذاہب کی چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ دور قدیم کے سارے مذاہب تاریخی حیثیت سے غیر معتبر ہیں۔ اسلام کے بعد ، تمام مذاہب میں، عیسائیت سب سے قریبی زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اس کا حال بھی یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے وجود کا کوئی تاریخی ریکارڈ آپ کی معاصر تاریخ میں نہیں پایا جاتا۔ آنجناب کے بارے میں معلومات کا واحد ذریعہ وہ مختصر انجیلیں ہیں جن کا تاریخی استناد خود انتہائی طور پر مشتبہ ہے۔ مذاہب کی فہرست میں صرف اسلام کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ پروفیسر ہسٹی کے الفاظ میں وہ تاریخ کی پوری روشنی میں پیدا ہوا ۔ WITHIN THE FULL LIGHT OF HISTORY اس کی تمام چیزیں تاریخ کے معیار پر مکمل طور پر پوری اترتی ہیں۔ اسلام، پورے معنوں میں ، ایک تاریخی واقعہ ہے نہ کہ غیر ثابت شدہ روایات کا مجموعہ۔ قدیم زمانہ میں تاریخی ثبوت کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ مگر آج کا انسان اُس چیز کو قابلِ غور بھی نہیں سمجھتا جو مورخانہ معیار پر پوری نہ اترتی ہو۔ اس صورت حال نے اسلام کو لوگوں کے لئے پرکشش بنانے کا اتنا بڑا میدان کھول دیا ہے جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہ تھا۔
۶۔ آسمانی توجیہہ کی تلاش
خدا کو نہ ماننے والوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ زمینی واقعات کی توجیہہ خود زمین کے حالات میں تلاش کریں۔ مثلاً زندگی کو زمینی عناصر کے تعامل کا نتیجہ قرار دینا۔ مگر جدید شواہد نے اس قسم کی باتوں کو باطل بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ اب سائنس داں مجبور مور ہیں کہ وہ زمینی واقعات کے لئے آسمانی توجیہہ تلاش کریں۔ مثلاً قدیم نظریہ ارتقاء کے بجائے اب پینس پرمیا (PANSPERMIA) کا نام لیا جانے لگا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی زمین پر خود بخود پیدا نہیں ہو گی بلکہ بالائی خلا سے ہمارے اس کرہ پر بالقصصد بھیجی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بالائی خلا میں کسی مقام پر غالباً ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ”تہذیب“ موجود ہے جس نے زمین پر زندگی کے جراثیم بھیجے ہیں۔ مزید یہ کہ فلکیات کے وسیع تر مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ”عالم بالا“ ہم سے غیر متعلق اور بے عقل وبے شعور عالم نہیں ہے۔ ایسے قرائن معلوم ہوئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ خلا کے کسی مقام پر ہم سے زیادہ ذہین ہستیاں موجود ہیں۔ وہ اپنے اعلیٰ مواصلاتی ذرائع سے مسلسل ہماری زمین سے ربط رکھے ہوئے ہیں۔ حال میں ایک نیا شعبہ مطالعہ وجود میں آیا ہے جس کو ریڈیائی فلکیات (RADIO ASTRONOMY) کہا جاتا ہے۔ علم الافلاک کی اس نئی شاخ کا مقصد بالائی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues