٣۔ سائنٹفک اسلوب بیان
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵
خلا میں سگنل بھیجنا اور اوپر سے آنے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کرنا ہے۔ سائنسی حیثیت سے ترقی یافتہ ممالک میں ایسے بہت سے ادارے وجود میں آئے ہیں جو مختلف تدابیر کے ذریعے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ زمین کے علاوہ کسی دوسرے کائناتی مقام پر جو اعلیٰ تر ذہنی ہستیاں پائی جاتی ہیں، ان سے ربط قائم کیا جائے_ ان کوششوں کا انجام خواہ کچھ بھی ہو، تاہم اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جدید انسان کے لئے خدائی الہام کا تصور اب ایسی مستبعد چیز نہیں رہا جس پر سوچنے کے لئے وہ تیار ہی نہ ہو سکتا ہو۔
فطرت کی دریافت اور کائنات کی تسخیر نے موجودہ زمانہ میں عیش و عشرت کے بے شمار نئے دروازے کھول دیئے_ انسان نے ایسا شاندار تمدن بنایا جو معلوم تاریخ کے مطابق اس زمین پر کبھی نہیں بنا تھا اور آرام و راحت کے ایسے سامان فراہم کئے جو پہلے انسان نے خواب میں بھی نہیں دیکھے تھے_ مگر ترقیوں کی انتہا پر پہنچ کر بالآخر انسان کو معلوم ہوا کہ موجودہ دنیا میں وہ زندگی نہیں بن سکتی جو خوف و حزن اور لغوو تراشیم سے خالی ہو۔ ترقیات نے فطرت کے حسین توازن کو توڑ دیا۔ بڑھاپا، بیماری اور موت پر قابو پانا ممکن نہ ہو سکا۔ حکومتی نظام اور قانونی ضوابط انسان کو نظم و ضبط کے دائرہ میں رکھنے کے لئے ناکافی ثابت ہوئے۔ شسینی تہذیب کی آفتوں نے خشکی و تری کو فساد سے بھر دیا۔ مادی ساز و سامان آدمی کو خوشی اور سکون نہ دے سکے۔ وغیرہ اس تجربہ کے بعد ساری دنیا میں ایک نئی حرکت شروع ہوئی ہے۔ انسان مادیات سے اکتا کر غیر مادیات میں اپنی تسکین ڈھونڈ رہا ہے۔ خارجی دنیا سے واپس ہو کر وہ اپنی اندرونی دنیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے اس کوشش نے مذہب اور نفسیات کے علم کو بالکل نئی اہمیت دے دی ہے۔ آج کا انسان دوبارہ اس مقام پر واپس آگیا ہے جہاں اس کو خدا اور مذہب کی باتیں بتائی جائیں اور وہ ان کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرے۔ قدیم زمانہ میں تھوڑے سے حنیف "تھے جو سچائی کی تلاش کر رہے تھے_ آج دنیا کی دنیا سچائی کی تلاش میں سرگردان ہے یہ ذہنی زمین، بالواسطہ طور پر اسلام ہی کی پیدا کردہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے معاملہ میں اسلام کے پیرو ہی سب سے پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔
اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں دین حق کی تبلیغ و اشاعت کا بالکل نیا میدان کھول دیا ہے۔ آج سیاسی جبر اور ذہنی رکاوٹ دفنوں سے آزاد ہو کر خداوندی پیغام کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ الا یہ کہ ہم خود اپنی نادانی کی وجہ سے دوبارہ کسی نئے عنوان سے وقت کے حکمرانوں سے وہی ٹکراؤ شروع کر دیں جس سے خدائے دعوت اسلامی کی تحریک کو محفوظ کر دیا تھا۔
٣۔ سائنٹفک اسلوب بیان
اس سلسلے میں ایک بات دعوت حق کے اسلوب سے متعلق ہے۔ قرآن میں دعوت حق کو جس زبان میں پیش کیا گیا ہے، وہ فطرت کی سادہ زبان ہے۔ "افی الله شك فاطر السماوات والارض“ کی زبان سے قدیم زمانہ کا تعلیم یافتہ انسان زیادہ مانوس نہ تھا۔ وہ یا تو جادو اور طلسمات سے متاثر ہوتا یا خیالی فلسفوں سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues