Al-Risala · January 1977 · page 35

نمائندے یہ تھے :-

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵

جنگ قادسیہ (۱۳ھ) میں جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں۔ ایرانی لشکر سے ان کا ایک مشہور پہلوان گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا۔ اسلامی لشکر سے عاصم بن عمرواس کے مقابلہ کے لئے باہر آئے۔ ابھی ایک دو وار ہی ہوئے تھے کہ ایرانی شہ سوار بھاگا۔ عاصم بن عمرونے اس کا پیچھا ہیا وہ اپنے لشکر کی صف اول کے قریب تک جاچکا تھا کہ عاصم بن عمرو پہنچ گئے۔ انھوں نے اس کے گھوڑے کی دم کو پکڑ کر اس کو روک لیا۔ سوار کو اس کے اوپر سے اٹھایا اور زبردستی اپنے گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا اور اس کے بعد گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے لشکر میں آگئے ۔ اس قسم کے بہادر لوگ صفین وجمل (۳۶ھ) کی باہمی لڑائیوں میں ۹۰ ہزار کی تعداد میں کٹ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر خلافت راشدہ کے آخر میں آپس کی لڑائیاں شروع نہ ہو گئی ہو تیں تو طاقت و قوت کا بے پناہ سیلاب جو عرب سے اٹھا تھا، ایشیا، افریقہ اور یورپ کے تمام علاقوں کو توحید کا علاقہ بنا دیتا۔ صرف آسٹریلیا اور امریکہ کی ممکن طور پر اس سے مستثنیٰ رہ جاتے جو وسیع سمندروں کے دوسری طرف قدیم زمانہ میں ناقابل عبور تھے ۔

وہ کیا چیز تھی جس نے اس سیلاب کے رخ کو باہر کے بجائے خود اپنی طرف موڑ دیا۔ یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہوگا کہ یہ ایک خاندانی جھگڑا تھا جس نے بڑھ کر قومی جھگڑے کی شکل اختیار کرلی اور بالآخر ساری اسلامی تاریخ پر چھا گیا۔ ۶۲۰ء میں سیلِ عرم سے یمن میں عام تباہی آئی۔ یہاں کے باشندوں نے اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا رخ کیا۔ انہی میں سے قبیلہ خزاعہ مکہ آیا اور حضرت اسمعیل (۱۹۳-۳۷۰۲ء ق م ) کی اولاد کو بے دخل کرکے مکہ پر قابض ہو گیا۔ اس کے بعد مقامی باشندے ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ تقریبا ڈھائی سو سال تک قبیلہ خزاعہ مکہ پر قابض رہا۔ قصی بن کلاب پہلا شخص ہے جس نے قریش کی بکھری ہوئی طاقت کو دوبارہ منظم کیا اور ۴۸۰ء میں لڑ بھڑ کر خزاعہ سے مکہ کی سرداری چھین لی۔

قصی نے خانہ کعبہ کی مرمت کی۔ رفادہ، سقایہ، حجابہ اور قیادہ کے عہدے قائم کئے ۔ قومی نشان کے طور پر لوار بنایا۔ قومی اسمبلی قائم کی جس کو دار الندوہ کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد قدرتی طور پر قصی کو تمام قبائل قریش کی سرداری حاصل ہو گئی۔

قصی کے بعد قریش کی سرداری ان کی اولاد میں جاری رہی ۔ تا ہم تیسری نسل میں قصی کے خاندان میں سرداری پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ قصی کا پوتا ہاشم نہایت لائق اور شان دار شخصیت کا آدمی تھا۔ اس نے تجارت کرکے نہ صرف اپنے مال میں اضافہ کیا بلکہ قریش کو بھی بین اقوامی تاجر کے مقام پر پہنچا دیا۔ اس نے اپنے بھائیوں کی مدد سے شاہ غسان، شاہ حبش، امرارمین اور عراق و فارس کی حکومتوں سے تجارتی معاہدے کئے اور خصوصی مراعات حاصل کیں وہ قیصر روم سے یہ پر فانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ قریش کا تجارتی مال شام وفلسطین میں بغیر کسی ٹیکس کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page