نمائندے یہ تھے :-
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶
داخل ہوتا رہے گا۔ اب قریش کے تجارتی قافلے گرمی کے زمانے میں شام کی طرف جانے لگے، کیونکہ وہ ٹھنڈا اور شاداب علاقہ تھا اور جاڑے میں یمن کی طرف سفر کرنے لگے جو کہ گرم علاقہ ہے۔ (قریش - ۲) ہاشم کے حسن تدبیر سے قریش کی اقتصادیات نے بہت تیزی سے ترقی کی اور نتیجہً سایۂ قبیلہ میں ان کی عظمت قائم ہو گئی۔
ہاشم کی اس عزت و ترقی نے خاندان کی دوسری شاخ کے اندر ان کے خلاف منافست پیدا کر دی۔ ہاشم کے بھائی عبد شمس اور ان سے زیادہ ان کے بیٹے امیہ کو ہاشم کی سرداری ناپسند تھی۔ امیہ نے اس کو اپنے چچاسے چھیننے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے حتیٰ کہ اسی رنج و غم میں وہ ایک بار مکہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور دس سال تک وہاں پڑے رہے۔
ہاشم کے بعد دوبارہ ان کے بیٹے عبد المطلب اپنی وجاہت و صلاحیت کی بنا پر قریش کے سردار ہو گئے اور امیہ کی اولاد اس سے محروم رہی، اس طرح سرداری قصی کی ہاشمی شاخ میں چلتی رہی اور اس کی اموی شاخ کو حاصل نہ ہوسکی۔ ۸ ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار اصحاب کے ساتھ فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ نے ایک موقع پر اپنے چچا عباس سے کہا کہ ابو سفیان کو لے کر راستہ میں کسی گھاٹی پر بیٹھ جائیں تاکہ ابو سفیان، جوید کے بعد قریش کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اسلامی فوج کو گزرتے ہوئے دیکھیں۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ ابو سفیان کو لے کر ایک تنگ پہاڑی راستہ کی طرف گئے اور وہاں بیٹھنے کے لئے کہا تو ابو سفیان کو اندیشہ ہوا۔ ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا :
غدراً يا بني هاشم بنی ہاشم ! کیا غداری کا ارادہ ہے۔
اس کے بعد جب دس ہزار کی تعداد میں مسلح فوج سامنے سے گزری، تو ابو سفیان پر ہیبت طاری ہو گئی۔ انھوں نے کہا : لقد اصبح ملك ابن اخيک العظيمة عظيما تمھارے بھتیجے کی حکومت آج بہت عظیم ہو گئی۔
خاندان عبد مناف کی ان دو شاخوں میں یہ چپقلش اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ زمانہ جاہلیت میں یمن کا ایک شخص کچھ سودا لے کر مکہ آیا، ایک شخص نے اس کا سودا خریدنے کے لئے لیا اور پھر اس کو نہ قیمت دی اور نہ سودا واپس کیا وہ ایک ٹیلہ پر چڑھ کر چیخنے لگا۔ یہ واقعہ عرب آن کے انتہائی خلاف تھا، چنانچہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے اٹھے۔ انھوں نے آپس میں عہد کیا کہ مکہ میں اگر کسی مسافر اور اجنبی کو ستایا گیا تو وہ اس کی پوری حمایت کریں گے۔ بنو ہاشم کے ساتھ اس معاہدہ میں بنو اسد، بنو زہرہ، بنو تیم بھی شریک ہو گئے۔ مگر عبد شمس کا خاندان بنو ہاشم کے خلاف اپنی جلن کی وجہ سے معاہدہ میں شریک نہیں ہوا۔
اس طرح کے واقعات جو تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں، وہ بنوامیہ اور بنوہاشم کے درمیان اسی خاندانی کشمکش کے مظاہر ہیں۔
قصی بن کلاب کے خاندان کی دو شاخوں میں سرداری کی منافست جاری رہی، اکثر چھوٹے چھوٹے جھگڑے بھی ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ہاشم کے خاندان میں پیغمبر پیدا ہو گئے۔ اب اموی خاندان کی جلن اپنے شباب پر پہنچ گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues