Al-Risala · March 1977 · page 37

مریخ پر زندگی کی تلاش

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷

مریخ کا فوٹو لینا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل امریکی اور سوویت اسپوتنک مریخ کے گرد چکر لگاتے رہے ہیں۔ تاہم وائکنگ اول پہلی انسانی مشین تھی جو جولائی ۱۹۷۶ء میں مریخ کی سطح پر اتری۔ اس کے بعد وائکنگ دوم کو ستمبر ۱۹۷۶ء میں اس پر اتارا گیا۔

وائکنگ کے لفظی معنیٰ "بحری قزاق" کے ہوتے ہیں۔ ۷۰ ملین کلومیٹر کا سفر طے کرکے یہ پیچیدہ مشین گیارہ مہینے میں مریخ پر پہنچی۔ ۹۰ دن تک کام کرنے والی اس مشین کا وزن چار ٹن تھا، اس میں تین آٹومیٹک لیبوٹریان تھیں اور مجموعی طور پر اس کے اندر کل ۹۲۵۰۰۰ پرزے لگے ہوئے تھے۔ زمین پر کسی لیبوٹری میں جتنے آلات ہوتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ آلات وائکنگ کی لیبوٹری میں تھے۔ اس کے باوجود وہ اتنی چھوٹی تھی کہ کوئی شخص اس پوری لیبوٹری کو بغل میں دبا کر لے جاسکتا تھا۔ وائکنگ کی تیاری پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ اس کے بعد بجٹ میں اتنی رقم نہ رہی کہ اس میں فلیش لائٹ نصب کی جاسکے، کیونکہ وہ بہت قیمتی تھی۔ چنانچہ وائکنگ کو فلیش لائٹ کے بغیر بھیجا گیا۔ امریکی سائنس دانوں نے اس پر قناعت کی کہ وہ صرف دن کے وقت مریخ کی تصویریں حاصل کریں، رات کو اس کا سلسلہ بند رکھیں۔ وائکنگ کے دو قیمتی کیمرے اتنے طاقت ور تھے کہ وہ مریخ پر ایک چونٹی سے لے کر زرافہ تک کے اجسام کے مکمل فوٹو لے سکتے تھے۔

وائکنگ کی ہر چیز بے حد پیچیدہ حساب سے تعلق رکھتی تھی۔ مثال کے طور پر اس کو مریخ پر اتارنے کے لئے جو حسابی اندازہ کرنا تھا، اگر اس میں چند میٹر کی بھی غلطی ہوجائے، تو وہ مریخ تک پہنچ کر ہزار کلو میٹر کی غلطی کی شکل اختیار کر لیتی۔ وائکنگ کو زمین سے ریڈیائی لہروں کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ یہ نظام اتنا زبردست تھا کہ ۲۵ جولائی کو جب کہ مریخ پر اترنے کے بعد وائکنگ اول کا افت لمبا باز و جام ہو گیا ، جس کا کام یہ تھا کہ مریخ کی مٹی اٹھا کر اس کو اپنی لیپوریٹری میں ڈالے تو پسا ڈینا کے زمینی مرکز سے ریڈیائی لہروں کے ذریعہ اس کی مشینی غلطی درست کردی گئی اور بازو دوبار ه کھل کر اپنا کام کرنے لگا۔ اسی طرح وائکنگ کے اترنے کے لئے ابتداء جو جگہ طے کی گئی تھی، جب اس کی بھیجی ہوئی تصویروں سے معلوم ہوا کہ وہاں گیارہ میل قطر کا ایک گہرا غار ہے، تو وائکنگ کو مقررہ وقت پر اترنے سے روک دیا گیا۔ مزید مطالعہ کے بعد جب دوسری مناسب جگہ متعین ہوگئی تو اس کو اترنے کا "حکم" دیا گیا۔ وائکنگ کو مریخ پر زندگی کی تلاش کے سلسلے میں بہت سے کام انجام دینا تھے۔ اس میں ایسے آلات لگے ہوئے تھے جو مریخ کی سطح پر ایکسریز کی بمباری کر سکیں۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مریخ کی سطح کا مادہ کن چیزوں کا مرکب ہے۔ ایک اور آلہ وہاں کے موسمیاتی اعداد و شمار جمع کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔ اس کی کیمسٹری لیبوریٹری کا مقصد یہ تھا کہ وہ کاربن مالیکیول کی تلاش کرے اور یہ پتہ کرے کہ مریخ پر کیا آرگنک مالیکیول کی شکل میں موجود ہیں۔ یہ آلہ اتنا حساس تھا کہ آرگنک مٹیریل اگر ایک ملین میں ایک کی نسبت سے ہو، تب ہی وہ اس کو پکڑ سکتا تھا۔ وائکنگ میں لگے ہوئے کیمرے تین ابعادی تصویریں کھینچ سکتے تھے۔ کوئی جاندار ، چھوٹا یا بڑا، ان کے سامنے سے گزرے تو وہ ان کی گرفت سے بچ نہیں سکتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page