Al-Risala · March 1977 · page 36

مریخ پر زندگی کی تلاش

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶

مخلوق پائی جاتی ہے۔

۱۸۹۴ء میں ایک امریکی فلکیات داں پرسیول لادیل (PERCIVAL LOWELL) سے زیادہ گہرائی سے مریخ کا مشاہدہ کیا۔ اس نے بتایا کہ میں نے اپنے مشاہدہ میں مریخ پر۵۰ نہری شمار کی ہیں۔ اس کے بعد اس نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا : مریخ زندگی کا مسکن: MARS AS THE ABODE OF LIFE ۱۸۹۷ء میں خیالات کا یہ قافلہ اور آگے بڑھا جبکہ برطانیہ کے سائنسی کہانیاں لکھنے والے ایچ۔ جی۔ ویلز نے ایک کتاب شائع کی۔ اس کا نام تھا "دنیاؤں کی جنگ" THE WAR OF THE WORLDS اس کتاب میں برطانی مصنف نے دکھایا کہ مریخ کے باشندوں نے ہماری دنیا پر حملہ کر دیا ہے۔ یہ کہانی اتنی مقبول ہوئی کہ امریکی ریڈیو نے ۱۹۳۸ء میں اس کو نشر کیا اور اس کے فوراً بعد ہالی وڈ نے ایک فلم بنائی جس میں مریخ کے باشندوں کو عجیب و غریب قسم کے بڑے بڑے جانوروں کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔ ۱۹۱۱ء میں امریکہ میں ایک ناول چھپی جس کا نام تھا UNDER THE MOONS OF MARS یہ کتاب کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہو گئی۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ مریخ پر سرخ انسان، زرد انسان، ہر انسان وغیرہ مخلوقات پائی جاتی ہیں۔

موجودہ زمانہ میں خلائی سائنس کی ترقی نے جب اس کو ممکن بنا دیا کہ مریخ کے حالات کی تحقیق کے لئے زیاد’ دور رس تحقیقات کی جا سکیں تو نئے نئے منصوبے شروع ہوئے۔ اس کی تین خاص صورتیں یہ تھیں :

۱۔ بیرونی خلا میں سگنل بھیجنا اور ان کا رد عمل معلوم کرنا۔ قیاس یہ تھا کہ زمین سے ایک ہزار سال نور کے اندر جو ستارے واقع ہیں، ان میں کم از کم دس سیارے ایسے ہو سکتے ہیں جن میں ترقی یافتہ تہذیبیں موجود ہوں۔ اور وہ ہمارے سگنل کا جواب دیں۔ پہلی بار پروفیسر ڈریک (DRAKE) نے ۱۹۶۰ میں ستاروں سے مواصلات قائم کرنے کی کوشش کی۔ کائنات میں مفروضہ زندگیوں سے ربط قائم کرنے کے لئے ریڈیو اینٹینا کا رخ قریبی ستاروں کی طرف کر دیا گیا۔ میری لینڈ یونیورسٹی اور شکاگو یونیورسٹی نے ۱۹۷۲ سے ایک مشترکہ پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کے ذریعہ گرین بینک کی رصد گاہ (مغربی ورجینیا) سے سات سو قریبی ستاروں تک مسلسل سگنل بھیج کر ان کا جواب سننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وغیرہ ۲۔ بیرونی خلا سے آنے والے شہابئے (METEORS) حاصل کرنا اور احتیاط کے ساتھ ان کا مطالعہ کرنا کہ شاید ان پر دوسری دنیاؤں کے جراثیم لپٹے ہوئے مل جائیں۔ چاند سے لائے ہوئے ذرات اور ٹکڑوں کو بھی اسی طرح خصوصی آلات کی مدد سے دیکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے دوسرے سیاروں پر راکٹ بھیج کر واپس لائے جاتے ہیں اور بغوران کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ شاید ان کے اوپر کوئی کائناتی جراثومہ لپٹ کر آگیا ہو۔

۳۔ تیسری صورت مریخ پر ضروری ساز و سامان سے لیس خلائی جہاز بھیجنا ہے جو وہاں کے قریبی فوٹو بھیجے اور وہاں کی مٹی کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ دے۔ وائکنگ اول اور وائکنگ دوم اسی سلسلے کے مشن تھے جنھوں نے پچھلے سال بہت زیادہ شہرت پائی۔

مریخ پر نہ زندگی کی تلاش کا جدید سلسلہ ۱۹۷۵ میں شروع ہوا جبکہ میری نیر (MARINER) نام کی خلائی مشینیں اس کی طرف بھیجی گئیں۔ ان جہتوں کا خاص مقصد قریب سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page