مریخ پر زندگی کی تلاش
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹
وائکنگ نے مریخ سے تصویریں بھیجنی شروع کیں مٹی کے ہر ٹکڑے میں بے شمار تعداد میں خورد بینی کیڑے توپساڈینا (امریکہ) میں بیٹھے ہوئے سائنس دانوں کا جو شاد موجود رہتے ہیں۔ اگر مٹی کے کسی ٹکڑے کو آگ پر پکایا جائے خروش بہت بڑھ گیا۔ ان ابتدائی تصویروں میں انھیں کچھ ایسی چیزیں ملیں جو مریخ پر زندہ اشیاء کی موجودگی کا ثبوت دے رہی تھیں۔ ۱۸ اگست ۱۹۷۹ء کو کچھ تصویریں موصول ہوئیں جن میں نظارہ ایسا منظر تھا جو جوتے کے کھیت کے ہوائی فوٹو میں ہوتا ہے۔ دھاریاں اتنی سیدھی تھیں کہ سائنس دانوں کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ یہ محض فطری اسباب سے بن سکتی ہیں۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ ان کا کوئی تعلق ذی شعور مخلوق سے نہیں ہے۔ یہ ویسی ہی ہیں جیسے صحرا میں ہواؤں کے ذریعہ ریت کے اندر سیدھی دھاریاں بن جاتی ہیں۔
اسی طرح وائکنگ نے کچھ ایسی تصویریں بھیجیں جن میں انسانی حروف اور گنتیاں نظر آرہی تھیں مثلاً 8 G B وغیرہ۔ اس سے سمجھ لیا گیا کہ مریخ پر انسان جیسی کوئی مخلوق ہے اور اس نے وہاں کی چٹانوں پر یہ حروف اور گنتیاں لکھ رکھی ہیں، مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ محض نظر کا دھوکا تھا۔ اس قسم کے تمام نقوش صرف سایہ کا کرشمہ ثابت ہوئے۔ اس سلسلے میں ایک تصویر ایسی بھی موصول ہوئی جس میں صاف طور پر انسانی چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس میں آنکھ، ناک سب انسان جیسے تھے۔ مگر بعد کی تحقیق میں وہ بھی محض سایہ ثابت ہوا۔ مریخ پر زندگی کی تلاش کے سلسلے میں وائکنگ کا ایک خاص کام یہ تھا کہ وہ اپنے اندر سے دس فٹ کا بازو نکال کر مریخ کی مٹی کھودے اور اس کو اپنی لیپورٹری میں رکھ کر پکچائے۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مریخ کی سطح پر کاربن پر مبنی آرگینک کیپاؤنڈ ہے یا نہیں۔ زمین پر تو یہ کیڑے جل کر کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کریں گے جو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس کے اندر زندہ جسم یا لف و دیگر آرگینک میٹریل موجود تھا۔
وائکنگ کی لیپورٹری کے ذریعہ اسی زمینی تجربہ کو مریخ پر دہرایا گیا۔ مریخ کی مٹی کو ادلاً ۵۰ ڈگری سنٹی گریڈ اور اس کے بعد ۲۰۰ ڈگری سنٹی گریڈ تک گرم کیا گیا۔ مگر اس کے اندر کسی زندہ چیز کا ثبوت نہیں ملا۔ مریخ کی مٹی میں چھوٹے سے چھوٹا خورد بینی کیڑا یا کائی کے مانند بھی کوئی ہریالی ہوتی تو اس عمل سے اس کا پتہ چل جاتا۔
شروع میں جب مریخ کی مٹی لیپورٹری کی بھٹی میں ڈالی گئی جو سورج کی حرارت سے گرمی لے کر اس کو پکاتی تھی تو کسی قدر آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کا نشان ملا۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ وہ محض کیمیکل ری ایکشن کی وجہ سے تھا نہ کہ کسی قسم کی زندگی کی وجہ سے۔ وائکنگ کی لیپورٹری میں زندگی کی جانچ کے تین مختلف سائنسی طریقے اختیار کئے گئے، مگر آرگینک کمپاؤنڈ جو زندگی کا بلاک بلاک ہے، مریخ پر دستیاب نہ ہو سکا۔
اسی کے ساتھ وائکنگ میں دوسرے ایسے آلات تھے جو حیاتیاتی اجسام کی صفتیں مثلاً نشو و نما، نظام ہضم نظام تنفس کا انتہائی باریکی کے ساتھ پتہ لگا سکتے تھے، مگر ان آلات نے بھی آٹھ ہفتے کی تلاش کے باجود ایسی کوئی اطلاع نہ دی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مریخ پر ان خصوصیات کو رکھنے والی کوئی چھوٹی بڑی مخلوق پائی جاتی ہے۔
مریخ کی تحقیق یہ پتہ چلانے کے لئے تھی کہ کیا زمین
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues