Al-Risala · March 1977 · page 40

مریخ پر زندگی کی تلاش

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۰

سے باہر کی دنیاؤں میں زندگی موجود ہے۔ مگر ان تحقیقات نے مریخ پر زندگی کے بارے میں جدید انسان کی رجائیت کو سخت دھکا پہنچایا ہے۔ کیونکہ اس سے صرف یہ ثابت ہوا ہے کہ مریخ پر زندگی کم از کم اس وقت نا ممکن ہے۔ اس کی فضا میں پانی کے بخارات کی بہت کم مقدار، اور اس کی سطح پر سیال پانی کا فقدان ایسی باتیں ہیں جو زندہ نظام جسمانی کے لئے اس کو نا اہل بنا دیتی ہیں۔ شروع میں جب مریخ پر آکسیجن کا انکشاف ہوا تو فوراً مریخ پر زندگی کے بارے میں پر امید قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔ مگر بالآخر ثابت ہوا کہ آکسیجن کی بہت تھوڑی مقدار جو بظاہر مریخ پر پائی جاتی ہے وہ اپنے ماخذ کے اعتبار سے غیر حیاتیاتی ہے۔ اس قسم کے بیانات کہ مریخ کی فضا میں نائٹروجن کی موجودگی، سیارہ پر زندگی کے موجود ہونے کی توثیق کر سکتی ہے “ ایک روسی سائنس داں لیف موخن لکھتا ہے ” مجھے حد سے زیادہ عاجلانہ دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ قمری چٹانوں کے گیس کے حامل اجزار کا مطالعہ کرنے پر بھی اسی طرح نائٹروجن دریافت ہوئی تھی “ یہ بالکل ممکن ہے کہ وہاں زندگی کا کوئی وجود نہ ہو اور مریخ کی مٹی اور اس کی فضا کے بارے میں جو کچھ معلوم کیا گیا ہے، وہ سب ایک غیر معمولی رد عمل کا نتیجہ ہو۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مریخ کی سطح پر سخت قسم کی شمسی الٹرا وائلٹ شعاع افشانی نے مریخ کی مٹی کی جذب کرنے والی صلاحیتوں کو بدل دیا ہو اور جو کچھ آج ہمارے سامنے ہے وہ بخارات بننے کے سلسلہ ہائے عمل کا نتیجہ ہو۔

فلکی طبیعیات کے مشہور روسی عالم پروفیسر جوزف شنکلووسکی (JOSSIF SHKLOVSKY) چند سال پہلے تک اس نظریہ کے زبردست حامی تھے کہ زمین کے علاوہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی ذہین زندگی انٹیلیجنٹ لائف ) موجودہے۔ مگر اکتوبر ۱۹۷۹ کے آخر میں سوویت اکیڈمی آف سائنس کے مجلہ میں مضمون لکھتے ہوئے انھوں نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ذہین زندگی کا وجود صرف زمین پر ہے۔ اس کے علاوہ کائنات کے کسی دوسرے مقام پر ہمارے جیسی ذہین زندگی نہیں پائی جاتی، ذہین زندگی اگر ہماری کہکشاں میں یاستاروں کے کسی اور نظام میں موجود ہوتی تو خلائی سائنس کے ماہرین اب تک اس کا کوئی متعین ثبوت دریافت کر چکے ہوتے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں خلائی سنگل یا اڑن طشتریوں وغیرہ کے مفروضات کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں ۔

اگر انسان نہیں تو اس کی روبوٹ مشین بہرحال مریخ پر پہنچ چکی ہے۔ مگر اس نے پچھلی تمام امیدوں کے خلاف یہ بتایا کہ مریخ پر خشک چٹانوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ بظاہر سائنس فکشن لکھنے والوں کے تمام قیاسات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ کیمپیل مین (KAMPELMAN) نے لکھا کہ مریخ کے جس حصہ پر وائکنگ اترا، وہ اس وقت مریخ کا گرم علاقہ تھا، ظاہر ہے کہ مریخ کے باشندے ان دنوں نسبتاً سرد علاقوں میں منتقل ہو چکے ہوں گے جہاں ان کے لئے پارک اور آرام گاہیں ہیں ۔ ایک اطالوی ادیب باسکولو (RENUCCIO BOSCOLO) نے کہا: وائکنگ نے مریخ کی ایک قدیم تہذیب کے کھنڈرات کی تصویر بھیجی تھی مگر ناسا کے افسروں نے اس کو چھپا دیا۔ رے بریڈبری (RAY BRADBURY) نے کہا: مریخ کے باشندے وائکنگ کی گرفت میں کیسے آسکتے تھے کیونکہ وہ گونا قابل مشاہدہ (INVISIBLE) مخلوق ہیں، وغیرہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page