Al-Risala · March 1977 · page 43

مورخین کا خیال اب تک یہ تھا کہ اس علاقہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳

ان سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کے یہاں زنان کی سزا موت تھی۔

مورخین کا خیال اب تک یہ تھا کہ اس علاقہ

میں سب سے قدیم سلطنتیں مصر اور میسوپوٹامیا (عراق، والوں کی تھیں مگر ان تختیوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ الہ (شام)

والوں نے کبھی نہ تیسری عظیم سلطنت اس علاقہ میں قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس تیسری سلطنت کی عظمت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ میسوپوٹامیہ والوں کی فتح کا ذکر کرتے ہوئے ایک تختی کہتی ہے:

"یہ وہ شہر ہے جو انسان کی پیدائش سے لے کر اب

تک کبھی مفتوح نہیں ہوا تھا۔ " (ڈیلی ٹیلی گراف، ۲۱ اگست ۱۹۷۹ء) دین نہ سیاسی مقابلہ آرائی کا نام ہے نہ فراری عملیات کا انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اوّل کے درمیان پورے سو سال تک مسلمانوں کے اوپر سیاست کا جنون سوار رہا۔ نہ صرف دنیا دار لیڈر بلکہ مقدس بزرگ بھی سیاست کے میدان میں اس طرح ٹوٹ پڑے گویا اس سے بڑا کوئی کام ہی نہیں جس کے لئے وہ متحرک ہوں حتی کہ کچھ پر جوش داعیوں نے اسلام کی ایسی تشریح کر ڈالی جیسے اسلام نام ہی ہے اسلامی سیاست کا ۔ یہ بے معنی سیاست جب اس بے معنی انجام کو پہنچ گئی جہاں اسے پہنچنا تھا تو اب مسلمانوں کا پینڈولم دوسری انتہا کی طرف جا رہا ہے۔ یہ ہے ٹوٹے ٹوٹکے کا مذہب۔ "مجدوں والے اعمال میں ایسے پراسرار اوصاف تلاش کر لئے گئے ہیں کہ چھت کے سایہ میں بیٹھ کر اعلی کے بیج پر الفاظ شماری کرو اور مقابلہ کا میدان خود بخود سر ہوتا چلا جائے گا۔

مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی وہ دین نہیں ہے جس کو پیغمبر آخر الزماں خدا کی طرف سے لائے تھے اور جو قرآن کی صورت میں اب بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ دین نہ سیاسی مقابلہ آرائی کا نام ہے اور نہ فراری عملیات کا۔ دین نام ہے دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے عمل کر لینے کا۔ دین ایک ایسی زندگی ہے جسے لو آج کی زبان میں AKHIRAT ORIENTED LIFE کہا جا سکتا ہے۔ یعنی آخرت پسندانہ زندگی۔ ایک ایسی زندگی جس میں تمام سرگرمیوں کا رخ آخرت کی طرف ہو۔

ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم آخرت کے مسافر ہیں۔ ہماری موجودہ زندگی ، ہماری اصل زندگی کا بہت ہی چھوٹا حصہ ہے۔ ہم بہت جلد اپنی دائمی زندگی کے مرحلہ میں داخل ہونے والے ہیں۔ اس حقیقت واقعہ کو یاد رکھنا اور دنیا کے نفع نقصان کے بجائے آخرت کے نفع نقصان کو سامنے رکھ کر زندگی گذارنا اسی کا نام دین یا اسلامی زندگی ہے۔

مسلمان کا کام یہ ہے کہ خود اسی راہ کو اپنائے اور دوسروں کو اسی راستہ کی طرف دعوت دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page