Al-Risala · March 1977 · page 44

"یہ وہ شہر ہے جو انسان کی پیدائش سے لے کر اب

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴

سب سے بڑا اعتماد خدا پر اعتماد ہے دوسری جنگِ عظیم میں جب اتحادی طاقتوں نے بالآخر جرمنی کو شکست دیدی تو تمام نازی لیڈروں کو اسی برلن میں پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا جہاں وہ ساری دنیا کے قتل کا منصوبہ بنایا کرتے تھے۔ یہ واقعہ اکتوبر ۱۹۴۶ء کا ہے۔ ہٹلر اور گورنگ نے تو پہلے ہی خودکشی کرلی تھی اس کے بعد ربن ٹراپ، کیٹل، کیلٹن برنر، الفریڈ روزن برگ، ہنس فرینک، دلہم فرک جولیوس سائل، جوڈل، مسس انکورائٹ اور دوسرے نازی لیڈر جو زندہ بچے تھے، ایک ایک کرکے ختم کر دیئے گئے۔ یہ وہ لیڈر تھے جنھوں نے چالیس لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اُتاریا تھا اور ان کی املاک پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے ایک ایسی خونی جنگ چھیڑی تھی جس میں ان کے مفروضہ دشمنوں کے علاوہ خود جرمن قوم کے ۲۰ لاکھ سپاہی کام آئے۔ انھوں نے لاکھوں انسانوں کو سیگار کیمپوں (CONCENTRATION CAMP) میں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے کے لیے مجبور کر دیا تھا۔ ان کی درندگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے ملک کے بوڑھے، معذور اور بیمار لوگوں کو "جرمنی کے لیے بے فائدہ" قرار دے کر گولی سے اڑا دیتے۔ مقتول بچوں، لاشوں سے اٹے ہوئے گڑھوں اور بیواؤں اور یتیموں کے غول دیکھ کر بھی ان کا پتھر جیسا دل پسینہ نہیں جاتا تھا۔

مگر شکست کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ جب وہ پھانسی کے تختے کے سامنے لائے گئے تو ان کے چہرے زرد تھے، ان کی ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں، وہ کچھ بولنا چاہتے تو معلوم ہوتا کہ زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ شعله بیان جس بہادری کا انحصار مادی سہارے پر ہو، وہ اس وقت بزدلی میں تبدیل ہو جاتی ہے جب مادی سہارا چھن جائے لیڈرگویا ئیکو کھو بیٹھے تھے. جو دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے تھے، وہ اپنے انجام کو دیکھ کر پاگل ہو گئے تھے۔ جس بہادری کا انحصار صرف مادی سہارے پر ہو، وہ اس وقت بزدلی میں تبدیل ہو جاتی ہے جب مادی سہارا اس سے چھین جائے۔ البتہ جس کا اعتماد خدا کے لازوال پر ہو، وہ ہر حال میں شجاعت وعزمیت کی چٹان بنا رہتا ہے، خواہ مادی سہارے اس کا ساتھ دے رہے ہوں یا انھوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔

مسلمان اس نبی کی امت ہیں جس نے غار ثور میں بیٹھ کر اس وقت لا تحزن ان اللہ معنا کا سبق دیا جبکہ سارے مادی سہارے اس سے چھین چکے تھے اور طاقتور دشمن قتل کی مکمل تیاری کے ساتھ عین غار کے دہانے پر کھڑا ہوا تھا۔ اگر خدا کی مدد کا یہ یقین دلوں میں زندہ ہو جائے تو کبھی آپ مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتے۔ قاتلوں اور غارت گروں کے ہجوم سے بھی آپ اس طرح زندہ سلامت نکل آ سکتے ہیں۔ جیسے وہاں کسی کا وجود ہی نہیں تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page