انسان اور کچھوا
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۷
متفرقَات حقائق غالب آئے پاکستان کے لیڈروں کا خیال تھا کہ برصغیر کے مغرب میں جب وہ مسلم حکومت قائم کر لیں گے تو پورا مغربی ایشیا اور خلیج فارس اور بحر احمر کے گرد واقع تمام ممالک جوافعی کی طرح مذہباً مسلمان ہیں، ان کے ساتھ ہوں گے اور وہ بقیہ بھارت کے مقابلہ میں چھوٹے ہونے کے باوجود اپنے بھائیوں سے مل کر بہت بڑی حیثیت حاصل کر لیں گے۔ صدر ایوب کے زمانہ اقتدار (۱۹۶۹ - ۱۹۵۸)
میں یہ امید کسی درجہ میں پوری بھی ہوئی مگر بہت جلد زندگی کے حقائق غالب آگئے مغربی ایشیا کے مسلم ممالک کے یہاں پٹرول کا خزانہ برآمد ہوا ۔ اب انہیں ضرورت ہوئی کہ اس دولت کے ذریعہ اپنے ملکوں میں ترقیاتی اسکیمیں چلائیں ان کے پاس روپیہ با فراط تھا، مگر فنی واقفیت کی اسی قدر کمی تھی (TECHNICAL KNOW HOW)
یہ دوسری چیز انھیں پاکستان نہیں دے سکتا تھا۔ دوسرے قومیں ہی دوسری تمام قوموں کے لیے خبر حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ ۹۰ ملکوں میں قومی نیوز ایجنسیاں ہیں مگر یہ ممالک بھی اپنی ملکی خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچانے کے لیے پانچ عالمی نیوز ایجنسیوں کے محتاج ہیں۔ یہ چار عالمی نیوز ایجنسیاں کسی ملک کی جن خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچاتی ہیں، وہ عام طور پر اس قوم کے برے پہلو اور ان کی غیر نمائندہ خصوصیات ہی ہوتی ہیں۔ گویا پانچ نیوز ایجنسیاں تمام اخباری دنیا کی شہنشاہ ہیں۔
انسان اور کچھوا
ہندوستان میں سب سے پہلا چڑیا گھر ۱۸۷۰ء میں قائم ہوا۔ یہ کلکتہ کے قریب علی پور میں ہے۔ اس کو لوئی شیوینڈلر نے قائم کیا تھا۔ ۱۸۷۵ء میں یہاں ایک کچھوا تھا جس کی عمر اس وقت ۵۰ سال تھی۔ یہ کچھوا آج بھی علی پور زو میں موجود ہے اور اب اس کی عمر ۱۵۰ سال ہو چکی ہے۔ ایک اخباری تصویر (ایوننگ نیوز ۲۹ ستمبر طرف ہندوستان پچھلے سو پریس کی کوششوں کے نتیجہ میں اپنے کو اس قابل بنا چکا تھا کہ وہ مسلم ملکوں کی اس ضرورت کو پورا کر سکے۔ چنانچہ ہندوستان کے ماہرین کو آج مسلم ممالک میں زبردست استقبال مل رہا ہے اور پاکستان ہیں پشت چلا گیا ہے ۔
اخباری شهنشاه
یونیسکو نے ۲۰۰ قوموں کے ماس میڈیا کے بارے میں ایک سروے شائع کیا ہے۔ سروے کے مطابق اگرچہ موجودہ زمانہ میں نشر و اشاعت کے ذرائع ترقی کر کے سٹلائٹ کمیونی کیشن کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ مگر عملاً جو صورت حال ہے وہ یہ کہ تکنیکل اعتبار سے چند ترقی یافتہ (1975ء) میں ایک لڑکے کو کچھوے کے اوپر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ انسان کچھوے کی طرح ۵۰ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر انسان کا ایک بچہ کچھوے کی پیٹھ پر سوار ہو سکتا ہے۔ آسٹریلیا آسٹریلیا کے سیاہ فام قدیم باشندے تقریباً ۲۵ ہزار سال پہلے اس براعظم میں آئے تھے۔ علم الانسان کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لوگ پیدل چل کر یہاں پہنچے تھے جب کہ آسٹریلیا، نیوگنی اور ایشیا سے ملا ہوا تھا۔ اس کے بعد آسٹریلیا کٹ کر دور چلا گیا۔ یہ قدیم باشندے اب بھی ۴۰۰۰۰ کی تعداد میں موجود ہیں۔ یعنی کل آبادی (۴۰۰۰۷۵۷۰) کا ایک فی صد حصہ۔
CS CamScanner
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues