Al-Risala · March 1977 · page 48

ایک انسانی کم زوری

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸

آسٹریلیا کا رقبہ ہندوستان کے مقابلہ میں دگنا سے بھی زیادہ ہے۔ مگر اس کی آبادی بمبئی اور کلکتہ کی مجموعی آبادی سے بھی کم ہے۔ ۱۸۸۰ء میں جب برطانیہ کے کچھ مجرموں کو بطور سزا اس مقام پر لاکر ڈالا گیا جہاں آج سڈنی ہے تو اس وقت یہاں کھانے کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ مایوسی اور جھنجھلاہٹ میں یہ لوگ آپس میں لڑ لڑ کر مرنے لگے۔ مگر آج آسٹریلیا ایک مکمل طور پر خود کفیل براعظم ہے۔ وہ ۴۰۰ کروڑ روپے کا گیہوں ہر سال برآمد کرتا ہے اور دنیا کی اون کی کل پیداوار کا چوتھائی سے بھی زیادہ حصہ یہاں پیدا ہوتا ہے۔ قدرتی مناظر سے بھر پور اس ملک کے باشندوں کا معیار زندگی دنیا کے انتہائی چند ترقی یافتہ ملکوں میں سے ایک ہے۔

ایک انسانی کم زوری

لارڈ ریتھ (۱۹۷۱۔ ۱۸۹) بی بی سی لندن کے "فادر" کہے جاتے ہیں۔ وہ حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ اور انھوں نے برطانی عوام کے اندر غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

۵۲۵ صفحات پر مشتمل ان کی ذاتی ڈائری 'THE REITH DIARIES' شائع ہوئی ہے۔ ڈائری میں حیرت انگیز طور پر وہ ہٹلر (۱۹۴۵ ۔ ۱۸۸۹) کے لئے (SELF-CENTERED) آدمی ہوں ۔ بہت کم ایسا ہو سکتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے اندر بڑیائی کا اعتراف کروں: I WII RARELY ADMIT GREATNESS IN OTHERS لارڈ چرچل نے برطانیہ کی وزارتِ عظمیٰ کا مقام حاصل کر لیا۔ یہ وہ عہدہ ہے جس کے لئے لارڈ ریتھ اپنے آپ کو سب سے زیادہ موزوں سمجھتے تھے۔ چرچل کا تصور آتے ہی ان کے اندر حریفانہ نفسیات کام کرنے لگتی تھی، جبکہ ہٹلر ان کے لئے ایک غیر متعلق شخص تھا، ہٹلر کا نام ان کے اندر معاصرانہ نفسیات پیدا نہیں کرتا تھا۔ یہ تھی سادہ سی وجہ مذکورہ بالا فرق کی۔

میں سوچ رہا ہوں

راجہ راؤ ایک میسوری برہمن ہیں اور ہندوستان کے مشہور فلسفی ہیں۔ ہندوستان میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد 1929 میں وہ مزید مطالعہ کے لئے پیرس گئے۔ اور 1950 میں پہلی بار امریکہ کا سفر کیا۔ ۳۷، ۴۹ میں امریکہ کی ٹیکس یونیورسٹی میں ان کو فلسفہ کے مہمان پروفیسر کی حیثیت سے بلایا گیا۔ اس قیام کے دوران ایک امریکی مصنفہ الزیبتھ ووڈبل نے ان سے مفصل انٹرویو لیا۔ الزیبتھ ووڈبل دوبار ہندوستان آچکی ہیں۔ انٹرویو کا ایک فقرہ یہ ہے:

راؤ اپنی ذہنی زندگی کی حفاظت کرنے میں بڑے مستعد ہیں۔ (MAGNIFICENT EFFICIENCY) وہ بغیر کسی احساس ندامت کے محض اس شان پر کسی ملاقاتی کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے برعکس خود اپنے ملک کے لارڈ ڈونسٹن چرچل (۱۹۱۷ء) کے لئے ان کے پاس مکار (IMPOSTER) اور خطی (LUNATIC) کے الفاظ ہیں۔

اس فرق کی وجہ ہم کو خود ان کے اعتراف میں مل جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک انتہائی قسم کا خود پسند کی جڑی استنس مادّمت کے اس سچا پر ترس کھائیں سے طنز سے انکار کر سکتے ہیں کہ وہ سوچ رہے ہیں ۔ اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ یہ کہنے کے لئے بھی امریکہ کی سر زمین چاہئے۔ ہندوستان میں اگر کوئی ایسا کہے تو اس کو پاگل کا خطاب ملے گا یا مغر در کا۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کے راز کو سمجھ لے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page