Al-Risala · March 1977 · page 52

ایک مسئلہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۲

سیاستہ کے لئے جوش و خروش دعوت کے لئے سرد مہری ضیاء الدین احمد برنی ، مولانا محمد علی جوہر کے رفیق خاص تھے۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں : ” جنگ طرابلس اور جنگ بلقان نے مولانا محمد علی جوہر کو سخت پریشان رکھا۔ وہ ترکوں کی پے در پے ہزیمتوں سے بے حد مغموم تھے۔ انھوں نے ان کے مصائب کو ہلکا کرنے کی غرض سے ڈاکٹر انصاری کی سرکردگی میں طبی مشن روانہ کیا۔ پہلی جنگ بلقان (۱۹۱۸ء) کے بعد جب فاتحین میں تقسیم غنیمت پر جھگڑا ہوا، اور دوسری جنگ بلقان برپا ہوئی تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ترکوں نے ایڈیریا نول پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس وقت عالم اسلام میں غیر معمولی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خبر جب رائٹرز کے ذریعہ دہلی پہنچی تو اس وقت رات بہت زیادہ گزر چکی تھی مگر مولانا کی ترک دوستی کا اندازہ کیجئے کہ انھوں نے اس کا انتظار نہیں کیا کہ یہ خبر دوسری صبح کو اخبارات کے ذریعے لوگوں تک پہنچے۔ چند رفقاء کار کو لے کر سیدھے جامع مسجد پہنچے اور راستے بھر چلا چلا کر مسلمانوں کو یہ روح افزا خبر پہنچاتے رہے۔ ناوقت ہونے کے باوجود جامع مسجد میں ہزار ہا آدمیوں کا اجتماع ہو گیا۔ مولانا نے وہاں درد انگیز تقریر کر کے اس خبر کی اہمیت کو واضح کیا۔ وہ رات بھی کیسی ہیجان انگیز تھی۔ “ مولانا محمد علی (۱۹۷۷ء)، مرتبہ سید ناظر برنی (صفحه ۵۹ ہماری جدید تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے جو بتاتے ہیں کہ سیاسی اور جذباتی امور کے لیے مسلمانوں میں کس قدر جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا۔ مگر خدا کے دین کو خدا کے بندوں تک پہنچانے کے لیے ان میں کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوئی۔ "رائٹر" کی سیاسی خبریں انھیں بے چین کر دیتی تھیں، مگر قرآن کی اُخروی خبروں نے انھیں بے قرار نہیں کیا کہ اس کے لیے وہ اپنے گھروں سے نکل پڑتے اور ساری قوموں کو بتاتے کہ اے لوگو تم مرنے والے ہو اور مرنے کے بعد تم کو خدا کے یہاں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ موجودہ زمانے میں بے شمار قربانیوں کے باوجود مسلمانوں کی بربادی کی واحد وجہ یہی ہے کہ انھوں نے پیغامِ نبی کا وہ کام نہ کیا جو خدا نے ان کے اوپر فرض کیا تھا اور ظاہر ہے کہ جو خادم اپنی اصل ڈیوٹی سے ہٹ جائے وہ خواہ کسی اور کام میں کتنی ہی جانفشانی دکھائے، بہر حال وہ سزا کا مستحق ہوگا نہ کہ انعام کا۔ رسول اللہ نے فرمایا انكم ستختلفون من بعدی - فما جاءکم عنی فاعرضوه علی کتاب الله، فما وافقه فمنی وما خالفه فليس عنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم لوگ اختلافات میں پڑو گے ۔ پس میری جو بات نہیں پہنچے، اس کو خدا کی کتاب کی روشنی میں دیکھنا جو اس کے مطابق ہے وہ میری طرف سے ہے جو اس کے خلاف ہے وہ میری طرف سے نہیں مترجم (۱۹۶۴ء) ترجمہ حیدر علی سنڈھیلوی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page