Al-Risala · March 1977 · page 51

ایک مسئلہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۱

ایک مسئلہ

ابن ماجہ اور ترمذی کی روایت ہے۔ لا نکاح الا بولی (ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں) اس حدیث سے بعض فقہا نے استدلال کیا ہے کہ عورت کے نکاح کے لئے ولی کی اجازت لازماً ضروری ہے۔ اس کی تائید میں قرآن کی ایک آیت بھی پیش کی جاتی ہے :

فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ أَنْ يَّنْکِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ عورتوں کو اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے ہرگز نہ روکو، اگر وہ آپس میں نیکی کے ساتھ راضی ہو چکے ہیں کہا جاتا ہے کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ معقل بن یسار رضہ صحابی کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق رجعی دی تھی۔ مگر عدت کے زمانہ میں شوہر دوبارہ ان کو اپنی زوجیت میں لانا چاہتا تھا۔ وہ خاتون بھی یہی چاہتی تھیں۔ مگر ان کے بھائی دوبارہ ان کو نکاح کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اولیاء کو عورت کی مرضی کے خلاف نہ کرنا چاہئے۔

ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ جس سے چاہتے تھے ان کا نکاح کر دیتے تھے اور جس سے چاہتے تھے نہیں کرتے تھے۔ حضرت معقل بن یسار نے اسی رواج کے مطابق اپنی بہن کی شادی کو روکنا چاہا۔ مگر قرآن نے اس آیت کے ذریعہ اس رواج کو توڑ کر عورتوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کریں۔

جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، وہ اگر چہ سنداً زیادہ قوی نہیں۔ تاہم اس سے قطع نظر اس سے ایک معنی یہ مراد لیا جا سکتا ہے کہ نہیں ہے کوئی نکاح مگر بذریعہ ولی کے یعنی عورتوں کا نکاح با اعتبار مقررہ طریق عمل ولی کے ذریعہ منعقد ہونا چاہیے۔ اس سے لانہا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ولی کی رضامندی یا اجازت بذاتِ خود ضروری ہے۔ ولی، نکاح کے عمل میں، وکیل یا ایجنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور وکیل یا ایجنٹ کی ضرورت اس لئے ہے کہ عورتیں مجمع عام میں مردوں کے سامنے اپنی زبان سے رضامندی کے کلمات ادا کرتے ہوئے عموماً شرم محسوس کرتی ہیں۔ اس لئے یہ مناسب معلوم ہوا کہ ان کی طرف سے کوئی رشتہ دار یا خاندان کا بزرگ ان کی ترجمانی امام شافعی اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ولی کو روکنے کا حق نہ ہوتا تو معقل بن یسار کیوں انھیں روکتے اور کیوں نہ کر روک سکتے تھے۔ معلوم ہوا کہ ولی کو روکنے کا حق حاصل ہے۔

مفتی محمد عبدہ اس استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " اس آیت سے تو اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی مرضی کے خلاف مرد کو روکنے کا حق نہیں ہے۔ اس واقعہ کی اصلیت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مردوں کو عورتوں پر جو ظالمانہ حقوق حاصل تھے، کرے ۔ تاہم اگر کوئی لڑکی ولی کی وساطت اور اجازت کے بغیر خود اپنا نکاح کرلے اور خود رضامندی کے کلمات کہہ دے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ان الرجل ليتكلم بالكلمة لا يرى بها بأسا يهوى بها سبعين خريفاً من النار (بخاری، مسلم، ترندی) آدمی ایک بات کہتا ہے اور اس کے کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ مگر اس کی وجہ سے وہ ستر سال تک جہنم میں جاتا ہے CS CamScanner

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page