Al-Risala · March 1977 · page 58

مطالعہ کتب

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۸

کسی بھی یونانی عیسائی مصنف نے اس آیت کا ذکر نہیں لیا ہے۔ قدیم لاطینی عیسائیوں کی تحریریں بھی اس سے خالی ہیں۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ فقرہ جعلی ہے‘ (۱۰۳)

بائبل کی تاریخی حیثیت کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ اس کی ۶۶ کتابیں سولہ صدیوں میں تین درجن افراد کے ہاتھ سے لکھی گئیں۔ موسیٰ نے اس کی پہلی تحریر ۱۴۵۰ ق م میں لکھی۔ اور سب سے آخر میں یوحنا کے خطوط ۹۰ء میں لکھے گئے۔ بائبل کے آخری حصہ کی تحریر کے دو سو برس بعد ہم کیسے جانیں کہ بے نام حوالے اور انتسابتاً صحیح ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ بائبل کے ابتدائی مرتبین کو خدا کی طرف سے الہام ہوا تھا تب بھی اس کا کیا ثبوت کہ آج بھی وہ محفوظ شکل میں ہے کیونکہ "بائبل کی کوئی بھی تحریر آج موجود نہیں ہے‘ مصنف کا مقصد لوگوں کو بائبل سے دور کرنا نہیں بلکہ اس کے قریب لانا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بائبل اپنی موجودہ شکل میں آج کے انسان کو اپیل نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک وہ خدائی کتاب ہے۔ اور اصلا اسی طرح حق ہے جس طرح خدا حق ہے۔ مگر انسانی آمیزش نے اس کو لوگوں کی نظر میں بے اعتبار بنا دیا ہے۔ اس لئے جدید انسان کو دوبارہ بائبل سے قریب لانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ملاوٹی اجزاء کو اس سے الگ کر دیا جائے۔ مصنف کی یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ بائبل کے صحیح اور غلط اجزاء کو جانچنے کے لئے معیار کیا ہوگا۔ کیا انسانی عقل۔ ظاہر ہے کہ خدائی کلام کو انسانی معیار سے جانچا نہیں جاسکتا۔ خدائی کلام میں اگر آمیزش ہو جائے تو اس کو دوسرے خدائی کلام ہی کے ذریعہ جانچا جا سکتا ہے نہ کہ انسانی عقل کے ذریعہ۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں دفاتر کا نظام حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں دفاتر کا نظام رائج کیا۔ ابتدا ء خلفاء نے محرری کے لئے عربوں کے علاوہ موالیوں اور عجمیوں سے مدد لی۔ اس وقت ہر صوبہ میں محصول کا حساب کتاب وہاں کی مقامی زبانوں میں ہوتا۔ مقام عراق د ایران میں فارسی، شام میں یونانی اور مصر میں قبطی۔ بعد کو جب عربوں نے اس فن کو سیکھ لیا تو وہ اس ضرورت کو پورا کرنے لگے۔ عبد الملک بن مروان اور اس کے بیٹے ولید کے زمانہ تک تمام محصولات کا حساب عربی زبان میں تھا ۔ عراق میں صالح بن عبدالرحمن نے حجاج کے گورزی کے زمانہ میں وہاں کے دفتر محصولات کو عربی زبان پر مستقل کیا۔ شام میں خلیفہ ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں ابو ثابت سلیمان بن سعد نے یہ خدمت انجام دی بصرہ میں بھی ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں یہ عہدہ ابن سیر یوع فزاری حمصی نے حاصل کیا اور تمام کام عربی زبان میں ہونے لگے ۔ تاہم یہ صرف محصولات کے دفاتر کا معاملہ تھا۔ جہاں تک فوجی دفاتر اور دیگر سرکاری تحریرات کا تعلق ہے وہ ابتدائی سے عربی زبان میں ہوا کرتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page