Al-Risala · March 1977 · page 44

مطالعہ کتب

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴

"STRONG INSTINCTS"

The birds' sense of direction is most exciting extremely important phenomenon. We now where migratory birds spend the winter and they travel. ہندوستان میں ۲۵۰ قسم کی چڑیاں پائی جاتی ہیں، ان میں سے تقریباً ۵۰ قسمیں مہاجر (MIGRATORY) ہیں۔ یہ وہ رنگا رنگ مسافر ہیں جو ہزاروں میل دور سے پہاڑوں اور سمندروں کو طے کر کے سردیوں کے موسم میں ہمارے ملک میں آتے ہیں۔ یہ مہاجر چڑیاں شروع ستمبر سے لے کر مارچ کے آخر تک ہندوستان کو اپنا مسکن بناتی ہیں۔ اپریل میں گرمیاں شروع ہوتے ہی یہ پر دار سیاح اپنے وطن کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ رن کچھ کا صحرا ان کا پسندیدہ مقام ہے۔

چڑیوں میں کچھ اقسام ایسی ہیں جو ایک ہی جگہ ہمیشہ رہتی ہیں۔ مگر ایسی اقسام بھی ہیں جو مقامی طور پر اس قسم کی ہجرتیں کرتی ہیں۔ مثلاً بعض چڑیاں خاص موسم میں میدانوں میں رہتی ہیں اور خاص موسم میں پہاڑوں پر چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس کے برعکس یہ ہجرتیں دو مقصد کے لئے ہوتی ہیں، غذا کی تلاش یا انڈے بچے کرنے کے لئے مناسب موسم۔

چڑیوں کی یہ ہجرت اتنے صحیح وقت پر ہوتی ہے کہ قدیم زمانے میں بعض چینے ان مہاجر چڑیوں کے نام پر رکھے جاتے تھے۔

چڑیوں کی دنیا بعض چڑیاں درمیان میں رکے بغیر تین ہزار میل تک اڑتی چلی جاتی ہیں۔

وہ اتنی بلندی پر پرواز کرتی ہیں جہاں کوئی انسان مزید آکسیجن کا اہتمام کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

بیشتر چڑیاں اپنے انڈے بچے کرنے کے موسم کو خط استوا کے شمالی حصے میں گزارتی ہیں اور بقیہ موسم کو خط استواء کے جنوبی حصے میں۔ خشکی کی چڑیوں میں کوئی ایک مثال بھی ایسی معلوم نہیں ہے جو اس کے خلاف عمل کرتی ہو۔ تاہم سمندری چڑیوں میں بعض مثالیں اس کے خلاف پائی جاتی ہیں۔ ان چڑیوں نے نہ تو کسی درسگاہ میں جغرافیہ کا علم حاصل کیا ہے اور نہ مسافت کے فن سے وہ کوئی واقفیت رکھتی ہیں، اس کے باوجود پہاڑوں اور سمندروں کو طے کرکے ہزاروں میل دور کی منزل تک ان کا پہنچنا انتہائی حیرت انگیز ہے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ چڑیاں صد دراز مقام پر جاکر انڈے بچے کرتی ہیں اور ان کو وہاں چھوڑ کر چلی آتی ہیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر ٹھیک اسی راستہ سے سفر کرتے ہیں جس سے ان کے والدین نے سفر کیا تھا اور بغیر کسی رہبر کے دوبارہ اپنے اصل مسکن میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس حیرت انگیز سفر میں ان کی رہنمائی کون کرتا ہے؟ چڑیوں کی سائنس کے ماہرین (ORNITHOLOGISTS) اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page