Al-Risala · March 1977 · page 46

حقیقت دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۶

ذاتی معاملہ میں ہر آدمی حقیقت پسند ہوتا ہے۔ مگر علی معاملہ ہو تو ہر آدمی جند باقی بن جاتا ہے۔ میں نے ایک شخص سے کہا "ذاتی معاملہ میں ہوشیار اور ملی معاملہ میں بیوقوف، اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ "

جس شخص سے میں نے یہ بات کہی، وہ ایک معمولی پڑھا لکھا آدمی تھا۔ مگر اس نے جو جواب دیا، وہ اس قابل ہے کہ اس کو نقل کیا جائے۔ اس نے کہا:

" وجہ بالکل سادہ ہے۔ ذاتی معاملہ میں نتیجہ مقصود ہوتا ہے اور ملی معاملہ میں لیڈری۔ بس اس کے سوا اس فرق کی اور کوئی وجہ نہیں۔ "

یہ ایک واقعہ ہے کہ جب کبھی یہ فرسودہ ہوگا کہ اپنی کوشش کو ایک حقیقی نتیجہ تک پہنچانا ہے تو آدمی معاملہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھے گا، وہ سنجیدگی کے ساتھ اپنے عمل کا نقشہ بنائے گا۔ وہ شور کی سیاست کے بجائے چپ کی سیاست اختیار کرے گا۔ اس کے برعکس لیڈری کا مزاج ہو تو ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ کیونکہ لیڈری تو ایک نعرہ، ایک پرجوش تقریر، اخبار کی ایک سرخی سے حاصل ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص ایسا اقدام کرے جو قوم کو بربادی کے آخری کنارے پر پہنچا دے، جب بھی اس کی لیڈری مسلم رہے گی۔ لیڈر بننے کے لئے تعمیری نتیجہ نہ صرف غیر ضروری بلکہ غیر مفید بھی ہے۔ کیوں کہ اکثر حالات میں تخریبی اقدام آدمی کو اس سے زیادہ نمایاں کر دیتا ہے جتنا تعمیری اقدام۔ صرف اس اتفاقی خوش قسمتی کے ساتھ کہ آدمی اپنے تخریبی اقدام کو انقلابی اقدام کا نام دینے میں کامیاب ہو گیا ہو۔ (ظفر الاسلام خاں) فہرست غلط نشانہ عجیب و غریب تضاد اداریہ آہ کس قلم سے لکھا جائے قرآن: ایک معجزہ نظریاتی طاقت شرعی قانون کی حکمتیں ایک عیسائی خاندان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سیرت پر ایک کتاب کی ضرورت مومن اور غیر مومن کا فرق شہد: ایک عجیب نعمت زندگی اور موت اسلامی تاریخ: ایک مطالعہ صرف کریڈٹ جنت والے جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا ہندی میں پہلا ترجمہ قرآن الاسلام: ایک تعارف چھوٹی صنعتیں عظیم امکانات اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ مذہب انسانی تخلیق نہیں یہ کرشمہ قرآن کا تھا برتر سطح سے کام کیجیے جنوبی ہند کا سفر اسلامی مرکز: مقصد، پروگرام

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page