Al-Risala · March 1977 · page 6

اجتماعی انقلابات،

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۶

ہوتی ہے کسی عالم جرجی زیدان (۱۹۱۴-۱۸۶۱) نے اپنی کتاب آداب اللغۃ العربیہ میں اس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے :

وبالجملة فان للقرآن تاثیرانی آداب مختصریہ کہ عربی زبان کے ادب پر قرآن نے ایسا غیر معمولی اللغۃ العربیۃ ليس لكتاب ديني مثله اثر ڈالا ہے جس کی مثال کسی اور دینی کتاب کی دوسری في اللغات الاخریٰ زبانوں میں نہیں ملتی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی تمام زبانیں تبدیلی کا شکار رہی ہیں۔ حتیٰ کہ کسی زبان کا آج کا عالم اس زبان کی چند سو برس پہلے کی کتاب کو لغت اور شرح کی مدد کے بغیر سمجھ نہیں سکتا۔ اس تبدیلی کے اسباب عام طور پر دو قسم کے رہے ہیں۔ ایک، اجتماعی انقلاب، دوسرے، ادبی ارتقاء - عربی زبان کے ساتھ پچھلی صدیوں میں یہ دونوں واقعات اسی شدت کے ساتھ پیش آئے جس طرح کسی دوسری زبان کے ساتھ پیش آسکتے ہیں۔ مگر وہ اس زبان کے لسانی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہ کرسکے۔ عربی زبان اب بھی وہی زبان ہے جو چودہ سو برس پہلے نزولِ قرآن کے مکہ میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ ہومر (م ۸۵۰ ق م) کی ایلیڈ، تسی داس (م ۱۶۲۳ ء) کی رامائن، اور شیکسپیئر (۱۶۱۶ - ۱۵۶۴) کے ڈرامے انسانی ادب کا شاہکار سمجھے جاتے ہیں اور زمانہ تالیف سے لے کر اب تک مسلسل پڑھے جاتے رہے ہیں۔ مگر وہ ان زبانوں کو اپنی ابتدائی شکل میں محفوظ نہ رکھ سکے جن میں وہ لکھے گئے تھے۔ ان کی زبانیں اب کلاسیکس کی زبانیں ہیں نہ کہ زندہ زبانیں ۔ زبانوں کی تاریخ میں قرآن واحد مثال ہے جو مختلف قسم کے علمی اور سیاسی انقلابات کے باوجود اپنی زبان کو مسلسل اسی حالت پر باقی رکھے ہوئے ہے جس حالت پر وہ نزول قرآن کے وقت تھی۔ انسانی سماج کی کوئی بھی تبدیلی اُس میں تبدیلی کا باعث نہ بن سکی۔ یہ واقعہ قرآن کے ایک بر تر کلام ہونے کا یقینی ثبوت ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار برس کی تاریخ نے قطعی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ قرآن ایک معجزہ ہے ، اس کے بعد اعجاز قرآن کے لئے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔

اجتماعی انقلابات،

اجتماعی انقلابات کس طرح زبانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لئے لاطینی کی مثال لیجئے۔ لاطینی کا مرکز بعد کے دور میں اگر چہ اٹلی بنا، مگر ا چلا یہ زبان اٹلی کی پیدا وار نہ تھی۔ تقریباً ۱۲ سو قبل مسیح، لوہے کا زمانہ آنے کے بعد، جب وسط یورپ کے قبائل اطراف کے علاقوں میں پھیلے تو ان کی ایک تعداد، خاص طور پر کوہ الپ کے قبائل اٹلی میں داخل ہوئے اور روم اور اس کے آس پاس آباد ہوئے۔ ان کی بولی اور مقامی بولی کے ملنے سے جو زبان بنی وہی ابتدائی لاطینی زبان تھی۔ تیسری صدی قبل مسیح میں لیوبس اینڈ رونیکس نے یونانی زبان کے کچھ ڈراموں اور کہانیوں کا ترجمہ لاطینی میں کیا۔ اس طرح لاطینی زبان ادبی زبان کے دور میں داخل ہوئی۔ پہلی صدی قبل مسیح میں رومی سلطنت قائم ہوئی تو اس نے لاطینی کو اپنی سرکاری زبان بنایا، مسیحیت کے پھیلاؤ سے بھی اس کو تقویت ملی۔ اس طرح مذہب اور سیاست نیز سماجی اور اقتصادی زور پر اس کی ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ قدیم یورپ کے تقریباً پورے علاقہ میں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page