اجتماعی انقلابات،
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۷
پھیل گئی۔ سینٹ آگسٹین (۳۵۰۔ ۴۳۰) کے زمانے میں لاطینی اپنے عروج پر تھی۔ قرون وسطیٰ میں لاطینی زبان دنیا کی سب سے بڑی بین اقوامی زبان سمجھی جاتی تھی۔
آٹھویں صدی میں مسلم قو میں ابھریں اور انھوں نے رومی سلطنت کو توڑ کر اس کو قسطنطنیہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ ۱۴۵۳ میں ترکوں نے قسطنطنیہ کو فتح کرکے وہاں سے بھی اس کا خاتمہ کر دیا۔ ہزار برس قبل جب رومی شہنشاہیت ٹوٹی تو مختلف علاقائی بولیوں کو ابھرنے کا موقع مل گیا۔ یہی بولیاں، لاطینی کی آمیزش کے ساتھ بعد کو وہ زبانیں بنیں جن کو آج ہم فرانسیسی، اطالوی، اسپینی، پرتگالی، رومانی زبانیں کہتے ہیں۔ اب لاطینی زبان صرف رومن کلیسا کی عبادتی زبان ہے اور سائنس اور قانون کی اصطلاحات میں استعمال ہوتی ہے۔ اب وہ کوئی زندہ زبان نہیں ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت تاریخی ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹن (۱۶۴۲۔ ۱۷۲۷) کی پرنسپیا کوئی اصل زبان میں پڑھنا چاہے تو اس کو قدیم لاطینی زبان سیکھنی پڑے گی۔
یہی معاملہ تمام قدیم زبانوں کے ساتھ ہوا ہے۔ ہر زبان مختلف سماجی حالات کے تحت بدلتی رہی۔ یہاں تک کہ ابتدائی زبان ختم ہوگئی اور اس کی جگہ دوسری بدلی ہوئی زبان نے لے لی۔ قومی اختلاط، تہذیبی تصادم، سیاسی انقلاب، زمانی تبدیلی جب بھی کسی زبان کے ساتھ پیش آئے ہیں تو وہ بدل کر کچھ سے کچھ ہوگئی ہے۔ یہی تمام حالات پچھلے ڈیڑھ سو ہزار برس میں عربی زبان کے ساتھ بھی پیش آئے۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عربی زبان میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ اس تغیر پذیر لسانی دنیا میں عربی کا غیر تغیر پذیر رہنا تمام تر قرآن کا معجزہ ہے۔
۴۰۶ میں یہودی قبائل شام سے نکل کر یثرب (مدینہ) آئے۔ یہاں اس وقت عمالقہ آباد تھے جن کی زبان عربی تھی۔ عمالقہ کے ساتھ اختلاط کے بعد یہودی نسلوں کی زبان عربی ہوگئی۔ تاہم ان کی عربی عام عربوں کی زبان سے مختلف تھی۔ وہ عبری اور عربی کا ایک مرکب تھی ۔ یہی واقعہ اسلام کے بعد عربوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آیا جب کہ وہ اپنے وطن عرب سے نکلے اور ایشیا اور افریقہ کے ان ملکوں میں داخل ہوئے جہاں کی زبانیں دوسری تھیں۔ مگر اس اختلاط کا کوئی اثر ان کی زبان پر نہیں پڑا۔ عربی بدستور اپنی اصل حالت پر محفوظ رہی۔
نزول قرآن کے بعد عربی زبان کے لئے اس قسم کا پہلا موقع خود صدر اول میں پیش آیا۔ اسلام عرب کے مختلف قبائل میں پھیلا۔ وہ لوگ اسلامی شہروں میں یک جا ہونے لگے۔ مختلف قبائل کی زبانیں تلفظ، لب و لہجہ وغیرہ کے اعتبار سے کافی مختلف تھیں۔ ابو عمرو بن العلاء کا کہنا پڑا تھا: ما لسان حمیر بلساننا ولا لغتهم بلغةنار قبلہ حمیر کی زبان ہماری زبان نہیں ہے) حضرت عمر نے ایک بار ایک اعرابی کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو اس کو پکڑ کر آنحضور کے پاس لائے۔ کیونکہ وہ الفاظ قرآن کو اتنے مختلف ڈھنگ سے ادا کر رہا تھا کہ حضرت عمر کو یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ قرآن کا کون سا حصہ پڑھ رہا ہے ۔ اسی طرح آنحضور نے ایک بار ایک عرب قبیلے کے وفد سے اس کی اپنی بولی میں گفتگو کی تو حضرت علی کو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کوئی اور زبان بول رہے ہیں ۔
اس کی بڑی وجہ لہجوں کا اختلاف تھا۔ مثلاً بنو تمیم جو مشرقی نجید میں رہتے تھے۔ وہ جیم کا تلفظ یار سے کرتے تھے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues