Al-Risala · March 1977 · page 29

پیغمبر اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹

کے حق میں ہدایت کی دعا فرما رہے ہیں۔ آپ کے ایک ساتھی عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ”اس وقت بھی گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے ہیں، آپ اپنی پیشانی سے خون پونچھتے جاتے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں : رب اغفر لي قومي فانهم لا يعلمون خدایا میری قوم کو معاف کردے، کیونکہ وہ نہیں جانتے مسلم، غزوہ احد جلد ۲، صفحہ (۱۰۸)

اور جو واقعات نقل کئے گئے، وہ اس قسم کے ان بے شمار واقعات میں سے صرف چند ہیں جو حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی زندگی کس طرح انسانی کردار کا معیاری نمونہ تھی۔ یہ یہ واقعات عمل کی زبان میں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان خدا کا بندہ ہے اور اس کو ہر حال میں خدا کا بندہ بن کر رہنا چاہئے۔ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کا تقاضا ہے کہ بندے کے دل میں ہر وقت خدا کا اور اس کی آخرت کا طوفان برپا رہے۔ ساری کائنات اس کے لئے یاد الہیٰ کا دسترخوان ہو جائے۔ وہ ہر واقعہ کو خدا کی نظر سے دیکھے اور ہر چیز میں خدا کا نشان پائے۔ دنیا میں کوئی معاملہ کرتے وقت وہ کبھی یہ نہ بھولے کہ بالاخر سارا معاملہ خدا کے ہاتھ میں جانے والا ہے۔ جہنم کا خوف اس کو انسانوں سے تواضع اختیار کرنے پر مجبور کرے اور جنت کا شوق دنیا کو اس کی نظر میں بے حقیقت بنادے۔ خدا کی بڑائی کا خیال اس کے ذہن پر اس قدر چھا جائے کہ اپنی بڑائی کا کوئی بھی مظاہرہ اس کو مسخرہ خیز دکھائی دینے لگے۔ کوئی تنقید اس کو مشتعل نہ کرے اور کوئی تعریف اس کے ذہن کو بگاڑنے والی ثابت نہ ہو ــــ یہ ہے انسانی کردار کا وہ نمونہ جو خدا کے رسول نے اپنے عمل سے ہمیں بتایا ہے۔

نوٹ: ۰۷ مئی ۱۹۷۷ء کو چندی گڑھ میں ایک سیرت کانفرنس ہوئی جس میں مقامی غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر یہ مقالہ بہ شکل تقریر پیش کیا گیا۔

پیغمبر اسلام کی زندگی دنیا میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے زیادہ مکمل زندگی ہے۔ مگر سیرت کی بے شمار کتابوں کے باوجود آپ کی اصل سیرت لکھنے کا کام ابھی تک باقی ہے سیرت کی قدیم کتابوں میں اشعار بے اصل قصے اور غزوات کا پہلو اتنا غالب ہے کہ اس نے رسول کی اصل سیرت کو ڈھک لیا ہے۔ بعد کے دور میں سیرت کے موضوع پر جو کتا بیں بھی لکھیں، ان میں فقہی مسائل، کلامی بحثیں، تعبیری اضافے اصل سیرت کو چھپائے ہوئے ہیں۔ کوئی سیرت کو عنوان بنا کر اسلام کا دائرۃ المعارف مرتب کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ضرورت ہے کہ سیرت پر ایک ایسی جامع کتاب تیار کی جائے جو صرف ”سیرت“ ہو۔ وہ آپ کی زندگی کا واقعاتی مرقع ہو۔ وہ نہ ”مغازی“ کی داستان ہو اور نہ دوسری سیرت سے غیر متعلق بحثوں سے اس کو بوجھل بنایا گیا ہو۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو کافی محنت اور وسیع ذرائع چاہتا ہے۔ تاہم اگر ایسی ایک کتاب وجود میں آجائے تو وہ موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی لاکھوں کتابوں سے زیادہ قیمتی ثابت ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page