پیغمبر اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۸
تھا ۔ آپ کی اس دوسری حیثیت نے آپ کو پوری عرب قوم سے ٹکرا دیا ۔ فاقہ سے لے کر جنگ تک سخت ترین حالات پیش آئے ۔ مگر ۶۳ سال کی پوری زندگی میں آپ مکمل طور پر انصاف اور تقویٰ پر قائم رہے ۔ اس کی وجہ نہیں تھی کہ آپ کے اندر انسانی جذبات نہیں تھے ، اصل یہ ہے کہ خدا کے خوف نے آپ کو پابند بنارکھا تھا ۔ ہجرت کے تیسرے سال مکہ کے مخالفین نے مدینہ پر چڑھائی کی اور وہ معرکہ پیش آیا جس کو غزوہ احد کہا جاتا ہے اس جنگ میں ابتدا ء مسلمانوں نے فتح پائی ۔ مگر اس کے بعد آپ کے بعض ساتھیوں کی غلطی سے دشمنوں کو موقع مل گیا اور انھوں نے پیچھے سے حملہ کر کے جنگ کا نقشہ بدل دیا یہ بڑا بھیانک منظر تھا۔ آپ کے اکثر ساتھی میدان جنگ سے بھاگنے لگے ۔ یہاں تک کہ آپ مسلح دشمنوں کے نرغہ میں تنہا ہوگئے ۔ مخالف ہجوم بھوکے کے بھیڑیے کی طرح آپ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو پکارنا شروع کیا (ای عباد اللہ (خدا کے بندو میری طرف آؤ) من رجل يشترى لنا نفسہ (کون ہے جو ہمارے لئے اپنی جان قربان کرے) کون ہے جوان ظالموں کو مجھ سے ہٹائے ، وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا (مسلم)
وہ کیسا ہولناک سماں ہوگا ۔ جب خدا کے رسول کی زبان سے اس قسم کے الفاظ نکل رہے تھے ۔ اگر چہ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک تعداد نے آپ کی پکار پر لبیک کہی ۔ مگر اس وقت اتنا انتشار کا عالم تھا کہ آپ کے جہاں نثار بھی آپ کو پوری طرح بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ عقبہ بن ابی وقاص نے آپ کے اوپر ایک پتھر پھینکا ۔ یہ پتھر آپ کو اتنے زور سے لگا کہ ہونٹ کچل گئے اور نیچے کے دانت ٹوٹ گئے ۔ عبد اللہ ابن قمیہ قریش کا مشہور پہلوان تھا ۔ اس نے آپ پر شدید حملہ کیا ، جس کے نتیجہ میں لوہے کی خود کی دوکڑیاں آپ کے رخسار میں گھس گئیں ، یہ کڑیاں اتنی گہرائی تک گھسی تھیں کہ ابو عبیدہ بن الجراح نے جب ان کو نکالنے کے لئے اپنے دانتوں سے پکڑ کر کھینچا تو ابو عبیدہ رض کے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ ایک اور شخص عبداللہ بن شہاب زہری نے آپ کو پتھر مارا جس سے آپ کی پیشانی زخمی ہوگئی ۔ مسلسل خون بہنے سے آپ بے حد کمزور ہو گئے ۔ حتیٰ کہ آپ ایک گڑھے میں گر پڑے ۔ میدان میں جب آپ دیر تک نظر نہیں آئے تو مشہور ہوگیا کہ آپ شہید ہو گئے ۔ اس دوران میں آپ کے ایک صحابی کی نظر گڑھے کی طرف گئی وہ آپ کو دیکھ کر خوشی میں بول پڑے : " رسول اللہ یہاں ہیں ، آپ نے انگلی کے اشارے سے ان کو منع کیا کہ چپ رہو ۔ دشمنوں کو میری یہاں موجودگی کا علم نہ ہونے دو ۔ (فاشار اليه الرسول ان صمت ، نور اليقين في سيرة سيد المرسلين ، محمد الخضري ، صفحه ۱۳۰) ایسے خوفناک حالات میں آپ کی زبان سے قریش کے بعض سرداروں (صفوان ، سہیل ، حارث) کے لئے بد دعا کے الفاظ نکل گئے ۔ آپ نے کہا : كيف يفلح القوم شجعوا نبيهم (وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کرے) آپ کی زبان سے اتنی بات بھی اللہ کو پسند نہیں آئی ۔ اور جبریل خدا کی طرف سے یہ رق لے کر آگئے : لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ تم کو معاملہ کا کوئی اختیار نہیں ۔ خدایان کو توبہ کی توفیق فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (آل عمران)
دے گایا ان کو عذاب دے گا کیوں کہ وہ ظالم ہیں ۔
خدا کی طرف سے اتنی تنبیہہ کافی تھی ۔ فوراً آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ۔ آپ زخموں سے نڈھال ہیں ۔ مگر ظالموں
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues