Al-Risala · January 1977 · page 42

زیادہ دودھ حاصل کیجئے

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۲

انسان کو خدا نے آزاد پیدا کیا ہے۔ مگر یہ آزادی لامحدود نہیں ہے۔ فرد کی آزادی موت کے وقت ختم ہو جاتی ہے اور بحیثیت مجموعی پوری نسل انسانی کی آزادی قیامت کے روز ختم ہو جائے گی۔ دنیا کی اس زندگی کے خاتمہ کے بعد آخرت کی زندگی شروع ہوتی ہے۔ وہاں انسان کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ایک وہ جنہوں نے اپنی دنیوی زندگی کی آزادی کو خدا کی مرضی کے تابع رکھا ہوگا۔ ایسے لوگ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے۔ دوسرے وہ لوگ جنہوں نے آزادی کے اس لمحہ کو خدا سے بے خوف ہو کر گزارا ہوگا۔ ایسے لوگ جہنم میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ یہ تقسیم دائمی ہوگی۔ جہنم والے ہمیشہ کے لئے آگ میں جلتے رہیں گے، جنت والے ہمیشہ کے لئے آرام اور خوشی کے باغوں میں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تقریباً سو برس کی زندگی ایک دائمی انجام پر ختم ہونے والی ہے۔ اور انجام بھی ایسا کہ یا تو شدید ترین عذاب ہے یا اعلیٰ ترین انعام ۔ یہ صورت حال زندگی کے مسئلہ کو انتہائی سنگین بنا دیتی ہے۔ اس غیر معمولی سنگینی کے باوجود دنیا میں یہ تمام حقیقتیں آدمی کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ خدا، فرشتے، جنت، دوزخ، کسی بھی چیز کو وہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے یہ ممکن تھا کہ قیامت میں جب تمام باتیں کھلیں تو آدمی یہ کہہ دے کہ خدایا، ہم کو معلوم ہی نہ تھا کہ زندگی کا بالاخر یہ انجام ہونے والا ہے۔ ایسا ہی تھا تو آپ نے ہم کو بتانے کا انتظام کیوں نہ کیا۔

مسئلہ کی اسی نزاکت کی وجہ سے خدا نے یہ اہتمام کیا کہ جب انسان کو پیدا کیا تو اس کے ساتھ پیغمبر بھی بھیجنے شروع کئے ۔ ہر بستی اور ہر نسل میں خدا نے اپنے پیغمبر اٹھائے۔ ان کے اوپر وحی بھیجی اور کتاب اتاری۔ تاکہ وہ لوگوں کو کھول کھول کر زندگی کی حقیقت سے آگاہ کر دیں۔ یہ سلسلہ آدم سے لے کر مسیح تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ خدا نے فیصلہ کیا کہ آخری رسول بھیجے اور اس کے اوپر آخری آسمانی کتاب اتار کر اس کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دے۔ اس طرح ساتویں صدی سے انسانی تاریخ میں نیا دور شروع ہوا جب کہ خدا کی کتاب (قرآن) تو محفوظ حالت میں موجود ہے۔ مگر اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرنے کے لئے پیغمبر نہیں آرہے ہیں۔

پھر ختم نبوت کے بعد جو انسان پیدا ہو رہے ہیں اور پیدا ہو کر مر رہے ہیں، ان کو با خبر کرنے کا کیا انتظام خدا نے کیا ہے۔ اس کا جواب امت محمدیہ ہے۔ اللہ کے آخری رسول نے اپنی امت پر دین کی گواہی دی۔ اس کے بعد امت محمدیہ کو ہمیشہ کے لئے ذمہ دار بنا دیا گیا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں کے سامنے اس کی گواہی دیتی رہے، تاکہ قیامت کے روز جب قوموں کا مقدمہ پیش ہو تو وہ وہاں کھڑی ہو کر یہ کہہ سکے کہ ہم نے ان لوگوں تک حق کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ اس کے باوجود جن لوگوں نے اس کو اختیار نہیں کیا، وہ اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page