زیادہ دودھ حاصل کیجئے
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۱
فراہم کیا تھا۔
آزادی کے بعد ایک نیا انقلاب آیا۔ ملک زرعی دور سے نکل کر صنعتی دور میں داخل ہوگیا۔ مسلمان مختلف وجوہ سے، اس دور میں اپنی جگہ نہ بناسکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کوئی مسلمان مصلح اگر کسی ملی منصوبہ کو لے کر اٹھتا ہے تو اس کا منصوبہ مفلس کے چراغ “ کی طرح ٹمٹماتا رہتا ہے یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بجھ جاتا ہے۔ دوسری طرف جن قوموں نے صنعتی نظام میں اپنی جگہ بنائی ہے ان کے اجتماعی منصوبوں کو غذا دینے والے فوراً ان کے قریب ہی مل جاتے ہیں۔ ان کا منصوبہ نہ تو فیل ہوتا اور نہ ان کو بھیک مانگنے کے لئے باہر جانا پڑتا۔
یہی تبدیلی قدیم دور میں اس وقت ہوئی تھی جب انسان شکار خوری کے دور سے نکل کر زراعتی دور میں داخل ہوا۔ اس وقت جن قوموں نے زمانہ کی تبدیلی کو سمجھا اور زراعت کے طریقے اپنائے، وہ دوسروں سے آگے بڑھ گئیں۔ جن قوموں نے اس فرق کو نہیں سمجھا اور شکار خوری کے طریقے پر قائم رہیں، وہ زندگی کے میدان میں پیچھے دھکیل دی گئیں۔
جنگلی قبائل، جو اب بھی دنیا کے مختلف حصوں میں پائے جاتے ہیں وہ اسی گزرے ہوئے دور کی یادگار ہیں۔ یہ شکار اور مویشیوں پرگزر کرتے ہیں۔ تمدنی زندگی میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ حتیٰ کہ اپنی تعلیمی کمی کی وجہ سے، وہ اپنے اس پچھڑے پن کا شعور بھی نہیں رکھتے۔ [7] بجھگوتی ہیں۔ گڈوانی ہندوستان کے شہری پرواز کے محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک تازہ کتاب میں میسور کے سلطان ٹیپو (1799ء - 1751ء) کے حالات ناول کے پیرایہ میں بیان کئے ہیں۔ اس تاریخی ناول کا نام ہے ”ٹیپو سلطان کی شمشیر“ یہ کتاب انھوں نے ہند، برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، ترکی اور ایران کے کتب خانوں اور عجائب گھروں میں اٹھارہ سال تک تحقیق کرنے کے بعد تیار کی ہے۔ مسٹر گڈوانی نے ٹیپو سلطان کو "درجہ اول کا قوم پرست" قرار دیا ہے۔ ان کا فیصلہ ہے کہ "ٹیپو اٹھارویں صدی کا واحد ہندوستانی حکمران ہے جس نے کسی بھی وقت اپنے ہم وطنوں کے خلاف جنگ میں انگریزوں کا ساتھ نہیں دیا۔ “ مسٹر گڈوانی نے لکھا ہے کہ "1792ء کے سرنگاپٹم کے محاصرہ میں ٹیپو نے انگریزوں کے ساتھ صلح کی جو بات چیت شروع کی وہ محض اپنے جنرل میر صادق کی پیدا کردہ غلط فہمی کی بنیاد پر تھی۔ حالانکہ اس وقت برطانوی جنرل کارنو الس اپنی فوجوں کے زبردست جانی نقصان کی وجہ سے پسپائی کی تیاریوں میں مشغول تھا۔ “ سلطان ٹیپو کا یہ اقدام وقتی طور پر اس کے جاسوسی نظام کی کمی کا سبب ہو سکتا ہے۔ تاہم ٹیپو کی شکست یا اٹھارویں صدی کے آخر میں مشرقی اقوام کی مغربی اقوام کے مقابلہ میں پسپائی اس قسم کی کسی جز وی یا اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھی۔ یہ دراصل جدید قوتوں میں مغرب کی سبقت اور مشرق کی پس ماندگی تھی جس نے ایک کو غالب اور دوسرے کو مغلوب کر دیا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues