Al-Risala · March 1977 · page 40

انسان صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۰

ایک رومی ملکوں کو فتح کرتے ہوئے مراکش تک پہنچ گئے۔ اور بالآخر رمضان ۹۱ ھ میں آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے اسپین میں داخل ہو گئے۔ یہ سارا علاقہ جو مسلمانوں کے قبضہ میں آیا، وہ قدیم رومی سلطنت کا حصہ تھا۔ رومی حکمرانوں کی جارحیت خود ان کے خلاف پڑی اور آخر کار رومی حکمران کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ اپنے تمام مشرقی مقبوضات مسلمانوں کے لئے چھوڑ کر اپنے مغربی دارالسلطنت (قسطنطنیہ) میں پناہ گزیں ہو جائے۔

صدر اول میں مسلمانوں کی جتنی جنگیں ہوئیں، وہ سب دیگر قوموں کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں ہوئیں. عرب کے اندر قریش اور یہود سے، اور عرب کے باہر ایران و روم سے۔ یہ خدا کا خصوصی فضل تھا کہ جارحیت خود ان قوموں کے خلاف پڑی اور مسلمان ہر جگہ ان کو مغلوب کرتے چلے گئے۔

عرب کے پڑوس میں حبش کی، نسبتاً کمزور سلطنت تھی ۔ مگر اس نے مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیا۔ اس لئے مسلمانوں نے بھی اس کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کی۔ اگر چہ اس کی یہ قیمت دینی پڑی کہ حبش (ایتھوپیا) آج شمالی افریقہ کا واحد ملک ہے جہاں مسلم آبادی سب سے کم ہے اور اس کی وجہ سے مسلم دنیا کے خلاف اس کا رویہ ہمیشہ معاندانہ رہتا ہے۔

ایرانیوں اور رومیوں کی طرف سے جارحانہ اقدام کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ایک ایسا قیمتی موقع فراہم کر دیا تھا کہ وہ ایشیا اور افریقہ سے گزر کر یورپ کو اس کی آخری سرحدوں تک فتح کر سکتے تھے۔ کیونکہ یہ سب اٹھیں جارح شہنشاہیتوں کے علاقے تھے اور ان کی جارحیت نے مسلمانوں کو ان کے اندر داخل ہونے کا پورا جواز فراہم کر دیا تھا۔ مگر مسلمانوں کے باہمی اختلافات، خاص طور پر صفین و جمل کی خانہ جنگیوں میں ۷۰ ہزار بہادر مسلمانوں کا کٹ جانا، وہ واحد حادثہ ہے جس نے اس امکان کو اپنی پوری شکل میں واقعہ بننے نہیں دیا۔

انسان صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے

ایک سب سے بڑی بات جس کو انسان سب سے لے۔ ارادہ کے سوا انسان کے بس میں اور کچھ زیادہ بھولار ہتا ہے، یہ کہ اس دنیا میں کسی انسان کو نہیں۔ واقعات اس لئے اس کے سامنے لائے جاتے کوئی ذاتی طاقت حاصل نہیں۔ کوئی شخص نہ کسی کو کچھ ہیں کہ اس کی جانچ ہو تا کہ اس کا خدا یہ دیکھے کہ اس کا دیتا، نہ کوئی شخص کسی سے کچھ چھینتا۔ ہر واقعہ جو اس بندہ مختلف رویوں میں سے کس رویہ کا اپنے لئے انتخاب زمین پر ہوتا ہے وہ خدا کی اجازت سے ہوتا ہے۔ انسان کر رہا ہے۔ واقعات کا اہتمام مالک کائنات کی طرف سے کی ساری حیثیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں امتحان کے ہوتا ہے۔ انسان تو صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page