اسلامی تاریخ: ایک مطالعہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵
سمجھتے تھے۔
مدینہ کے یہود جن کو ان کی سازشوں اور بد عہدیوں کی وجہ سے تورات کے قانون کے مطابق، مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے چالاک اور زبان آور ایلچیوں کو ایرانی دارالسلطنت مدائن بھیجا۔ انھوں نے ایرانیوں کو مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے خوب ابھارا۔ چنانچہ ایرانی حکومت نے جدید عربی طاقت کو ختم کرنے کا مکمل ارادہ کر لیا۔ خلیفہ اول کے زمانے میں باقاعدہ ٹکراؤ شروع ہوا۔ مگر نتیجہ ان کے خلاف نکلا اور خلیفہ ثانی کے زمانے میں تقریباً پوری ساسانی سلطنت اسلام کے جھنڈے کے نیچے آگئی۔ تاہم ساسانی سلطنت کا آخری وارث یزدگرد ابھی زندہ تھا۔ اس کے ساتھ کئی ہزار ایرانیوں کی جمعیت تھی۔ ان کی مدد سے وہ ایک قسم کی گوریلا وار حکومت اسلامی کے خلاف جاری کئے ہوئے تھا۔ بالآخر خلیفہ سوم کے زمانہ میں ایک پن چکی والے نے اس کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ مرو کے پاس مرغاب میں ۲۳ اگست ۶۵۱ کو پیش آیا۔ اس کے بعد ایرانی سلطنت کا کوئی دعوے دار باقی نہ رہا۔
رومی شہنشاہ ہرقل کو بھی آپ نے اسی قسم کا خط بھیجا، جیسا کسری کو بھیجا تھا۔ اس نے اگرچہ آپ کے مکتوب کے ساتھ کوئی گستاخی نہیں کی۔ تاہم شام میں ہرقل کی ماتحت جو غسانی ریاست قائم تھی، اس کے پاس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد حارث بن عمیر ازدی آپ کا مکتوب لے کر گئے تو بصری کے حاکم شرحبیل بن عمرو غسانی نے شام کی سرحد پر قاصدِ نبوی کو قتل کرا دیا۔ یہ صریح طور پر ایک حکومت کی دوسری حکومت پر جارحیت تھی۔ چنانچہ آپ نے اس کے جواب میں تین ہزار کی ایک جمعیت کو سرحد شام کی طرف روانہ کیا۔ ہرقل نے اپنے غسانی حاکم کو تنبیہ کرنے کے بجائے اس مقابلہ میں اس کا پورا ساتھ دیا اور اس کی مختصر فوج کے ساتھ اپنی ایک لاکھ رومی فوج میدان میں اتار دی۔ عربوں اور رومیوں کے درمیان وہ پہلی جنگ پیش آئی جو تاریخ اسلام میں غزوہ موتہ (جمادی الاول ۸ھ) کے نام سے مشہور ہے۔
پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ قیصر روم براہ راست میدان میں آگیا۔ عرب کی اس نئی ابھرتی ہوئی طاقت کو ابتدا ہی میں ختم کرنے کے لئے اس نے باقاعدہ تیاری شروع کر دی۔ سرحد شام کے سردار اور شاہ غسان، جو قیصر کے باج گزار تھے، ان کے تعاون سے اس نے بہت بڑا لشکر تیار کیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ پر حملہ کر کے عرب کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کو شروع ہی میں کچل دیا جائے یہ رومی لشکر اسلامی دارالسلطنت کی طرف بڑھنا شروع ہوا اور بلقار تک پہنچ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبریں ملیں تو انتہائی ناموافق حالات کے باوجود آپ نے مسلمانوں کو تیار ہونے کا حکم دے دیا اور رجب ۹ھ میں ۳۰ ہزار کا لشکر لے کر رومی علاقہ کی طرف روانہ ہوئے۔ شام کی سرحد کو عبور کر کے آپ تبوک تک پہنچے تھے کہ معلوم ہوا کہ شاہ روم نے اس وقت مقابلہ کا ارادہ ترک کر کے اپنی فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا ہے۔ خلیفہ اول کے زمانے میں رومیوں سے باقاعدہ جنگ کا آغاز ٹھیک اسی مقام (موتہ) پر ہوا جہاں اس سے پہلے رومیوں نے مسلمانوں کی دو ہزار فوج کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بھر کے مقابلوں میں مسلمانوں کی کامیابی نے رومیوں کے مخالفانہ جذبات کو اور ٹہرا دیا اور وہ پوری طاقت سے مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہو گئے ۔ مگر اللہ کی مدد سے فیصلہ مسلمانوں کے موافق ہوتا چلا گیا۔ شام و فلسطین سے گزر کر یہ جنگ شمالی افریقہ کے رومی مقبوضات تک پہنچی اور مسلمان ایک کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues