Al-Risala · March 1977 · page 42

جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۲

جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ بھی قیادت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ مسلمانوں کا جھنڈا گر جانے سے انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی، اس وقت لشکرِ اسلام کے ایک سپاہی ثابت بن اقرم نے بڑھ کر جھنڈا اٹھالیا اور بلند آواز سے کہا: ’’مسلمانو! کسی ایک شخص کو امیر بنانے پر اتفاق کر لو۔ ‘‘ مسلمان فوجیوں کی طرف سے آواز آئی، رضینا باب ہم تمہاری سرداری پر راضی ہیں، ثابت بن اقرم نے جواب دیا: مانا یفعل فالتفقوا حتی خالد بن الولید (میں یہ کام نہ کر سکوں گا تم لوگ خالد بن ولید کو اپنا سردار بنالو) یہ آواز بلند ہوئی، ہم کو خالد بن ولید کی سرداری منظور ہے۔ یہ سنتے ہی خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور رومی لشکر پر حملہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس جنگ میں بارہ مسلمان شہید ہوئے۔ ”تاہم یہ جنگ فیصلہ کن طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ رومیوں کی مدد سے غساسنہ مدینہ پر چڑھ آئیں اور اس نومولود ریاست کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ذی الحجہ ۵ ھ میں بنو قریظہ کے خاتمہ کے بعد جب مدینہ میں بعض معاشتی مسائل پیدا ہوئے اور ازواج رسول نے اضافہ نفقہ کا مطالبہ کیا تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آپ نے ایک مہینہ تک گھر کے اندر نہ آنے کی قسم کھائی۔ اس سلسلے میں تاریخ میں آتا ہے کہ جب ایک صحابی عمر فاروق سے ملے اور ان سے کہا: ”کچھ سنا آپ نے“ تو عمر فاروق کی زبان سے فوراً نکلا: ’’کیا غساسنہ آگئے‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں عسائیوں کی طرف سے مدینے کے لئے کتنا خطرہ لاحق تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ اپنی عمر کے آخری ایام میں جن امور کے لیے آپ نے شدت سے اہتمام کیا، ان میں غساسنہ یا بالفاظ دیگر رومیوں سے مقابلہ کے لیے فوج کی تیاری بھی تھی۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک فوج ترتیب دی، اس فوج میں اگرچہ ابو بکر و عمر جیسے بڑے بڑے صحابہ تھے مگر آپ نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اس لشکر کا سردر اور اسامہ بن زید کو مقرر کیا۔ اسامہ نہ صرف ایک بہادر نوجوان تھے بلکہ ان کے دل میں رومیوں سے انتقام کا شدید جذبہ بھی موجزن تھا۔ کیونکہ موتہ کی جنگ میں رومیوں نے ان کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا۔

”تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں لشکر روانہ نہ ہو سکا ۔ کیونکہ عینی وقت پر آپ کے اوپر مرض الموت کا غلبہ ہو گیا۔ آپ کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے خلیفہ اول کی حیثیت سے اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔ یہ رواتھی بھی اسلامی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آنے لگیں ۔ لوگوں نے خلیفہ اول کو مشورہ دیا کہ اب جبکہ مرکز اسلام خطرہ میں پڑ گیا ہے اور مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی کر دیا جائے مگر صدیق اکبر کا یہ جواب لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے کافی تھا : ’’اگر مجھ کو یقین ہو کہ لشکر کی روانگی کے بعد مجھ کو مدینہ میں کوئی درندہ تنہا پا کر پھاڑ ڈالے گا، تب بھی میں اس لشکر کی روانی کو ملتوی نہیں کر سکتا جس کو خود رسول اللہ نے ترتیب دیا ہو۔ ‘‘ صدیق اکبر کی یہ ایمانی جرات کام آئی۔ اسامہ کا لشکر نہ صرف رومیوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوا بلکہ رومی شہنشاہیت کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فتح نے مرتدین کی بھی حوصلہ شکنی کی اور

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page