Al-Risala · March 1977 · page 43

جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳

نسبتاً آسانی کے ساتھ وہ مغلوب کر لیے گئے۔

اس واقعہ میں ایک اور بہت بڑی حکمت شامل تھی، عرب قبائل ہمیشہ سے آپس میں لڑتے چلے آرہے تھے شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کے اظہار کا دوسرا میدان نہ پیدا کردہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے ساتھ عرب طاقت کو رومی شہنشاہیت سے متصادم کر کے اس کا جواب فراہم کر دیا۔ اب عربوں کے جنگجو فطرت کے لیے ایک بہترین میدان مل چکا تھا۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ جو اپنے ہم وطنوں کی قتل و غارتگری کے سوا کچھ نہ جانتے تھے انھوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا کو فتح کر ڈالا۔ جان بیگٹ گلب پاشانے اپنی کتاب دی لائف اینڈ ٹائم آف محمد میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: عرب نامعلوم زمانے سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ وجدل میں زندگی بسر کرنے کے عادی رہے تھے۔ یہ جنگ و جدل کسی خاص سبب کا نتیجہ نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ ان کی طرز زندگی میں داخل تھی۔ اب جبکہ وہ بحیثیت مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے سے روک دیتے گئے تھے یہ کیسے ممکن تھا کہ فوجی ذہنیت کے قبائلی آدمیوں کو ہمیشہ کے لیے پرامن زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے ؟ پیغمبر اسلام نے خود اس مہم کو روانہ کر کے جس نے موت میں شکست کھائی تھی اس سوال کا حل پیش کر دیا تھا۔

۶۳۳ ء کے سرما میں تین عرب کالموں نے فلسطین اور شام پر حملہ کر دیا اسی اثناء میں مشرقی عرب کے قبیلوں نے جو حیرہ کی لکھی ریاست کی ضبطی کے بعد سے ایران کے دشمن بنے ہوئے تھے، فرات کی طرف پیش قدمی کر کے حیرہ پر قبضہ کر لیا۔ ۲۷ اگست ۶۳۴ء کو باز نطینی رومی قوت نے یرموک کے میدان میں مکمل شکست کھائی اور شام کا تمام علاقہ طبر یہ تک عربوں کے قبضہ میں آگیا۔ فروری ۶۳۷ء میں ایرانی فوج قادسیہ کے مقام پر چوہیرہ سے چند میل کے فاصلہ پر تھام ممکن طور پر تباہ کر دی گئی اور قدیم عراق بشمول ایرانی دارالسلطنت مدائن جو دجلہ کے جنوب میں موجودہ بغداد کے قریب واقع تھا، عربوں کے زیر تسلط آگیا۔ ۶۴۰ء میں مصر پر حملہ ہوا اور ایک بار پھر باز نطینی حکومت شکست یاب ہوئی اور ستمبر ۶۴۲ء تک پورے مصر پر عرب قبضہ مکمل ہوگیا۔ اسی سال کچی کچھی ایرانی فوج نہاوند کے مقام پر تباہ کر دی گئی اور ایرانی سلطنت کا پورے طور پر خاتمہ ہو گیا۔

دوسری صدی ہجری کے آخر میں ایک ہندوستانی راجہ کی طلب پر ہارون الرشید نے بغداد سے ایک متکلم ہندوستان بھیجا تھا ۔ قرآن کا سب سے پہلا ہندی ترجمہ ایک ہندو راجہ کے حکم سے کیا گیا تھا ۔ ۵۳۷ھ میں سندھ کے راجہ مہروگ نے منصورہ (واقع سندھ) کے امیر عبداللہ بن عمر کو لکھا کہ کسی ایسے شخص کو ہمارے پاس بھیجے جو مہندی میں ہم کو اسلام کا مذہب سمجھائے۔ منصورہ میں اس وقت ایک عراقی مسلمان تھا جو ہندوستان میں پلا تھا اور یہاں کی زبانیں جانتا تھا۔ چنانچہ امیر نے اسے راجہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ وہ راجہ کے دربار میں تین برس رہا اور اس کی خواہش سے اس نے ہندی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا جس کو روزانہ پڑھوا کر سنتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page