نجات
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۱
ہے کہ مذہب کی ابتدائی شکل کو معلوم کیا جاسکے۔ ماضی میں مذہب کے محققین کا یہ گمان تھا کہ اگر یہ ثابت کیا جاسکے کہ مذہب کا آغاز کچھ وہی تصورات سے ہوا تو بعد کی ترقی یافتہ مذہبی شکلوں کو بھی بے بنیاد ثابت کیا جاسکتا ہے۔ مگر اب علمی طور پر اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مذہب کونفیستی فریب PSYCHOLOGICAL ILLUSION یا سماجی فریب (SOCIOLOGICAL ILLUSION)
ثابت کرنے کا خواب بے تعبیر ہو چکا ہے ۔ اب یہ ذہن پیدا ہورہا ہے کہ مذہب، جیسا کچھ آج ہے اس کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے نہ کہ اس کی ابتدائی صورتوں کو دریا۔ کرنے کی لاحاصل کوشش میں وقت ضائع کیا جائے۔ مذہبی ارتقار کی ابتدائی شکل دریافت کرنے کا ڈین ڈارونزم کے بعد پیدا ہوا تھا۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ وحشی قبائل جو آج بھی جنگلوں میں پائے جاتے ہیں وہ ابتدائی دور" کے انسان کی باقیات ہیں۔ اور مہذب سماج میں رہنے والے لوگ ترقی یافتہ دور کے انسان۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وحشی قبائل میں مذہب کا جو تصور پایا جائے وہ ابتدائی مذہب کو بتاتا ہے۔ اور مہذب سماج میں جو مذہب ہے وہ مذہب کی ترقی یافتہ شکل کو بتاتا ہے۔ مگر یہ مفروضہ بہت جلدی میں قائم کر لیا گیا جب کہ حقائق اس کی تردید کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر ایسے ابتدائی قبائل جن جن میں ایک برتر خدا کا عقیدہ موجود ہے، جب کہ بدھزم کو ماننے والے بہت سے ترقی یافتہ لوگ خدا کو نہیں مانتے۔ Geoffrey Parrinder Essay in 'Man and his Gods' (Encyclopedia of the World's Religions)
London 1974 یہ کرشمہ قرآن کا تھا اسلام سے پہلے عرب میں تعلیم بہت کم تھی بشنہ میں (بحری، الحسار) جیسے بڑے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تبلیغی خط بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ سارے علاقے اور قبیلہ میں ایک شخص بھی نہ تھا جو خط کو پڑھ سکے۔ لوگ تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ ایک نوجوان ملا جس نے خط کو پڑھ کر سنایا۔ تقریباً اسی زمانہ کا واقعہ ہے، النمربن تو لب مسلمان ہوئے۔ وہ ایک بڑے قبیلہ کے سردار تھے اور اتنے بڑے شاعر کہ ان کے اشعار کا ایک دیوان تیار ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان کے قبیلہ عکل (یمن) کا سردار مقرر کر کے ایک تحریری پروانہ عطا کیا۔ مگر وہ اس کو پڑھ نہیں سکتے تھے۔ بازار میں اگر پوچھنے لگے“ کیا آپ لوگوں میں کسی کو پڑھنا آتا ہے جو یہ خط پڑھ کر مجھے سنا دے۔ ‘‘ کہا جاتا ہے کہ بعثتِ محمدی کے وقت شہر مکہ میں مشکل سے ڈیڑھ دو درجن آدمی ایسے مل سکتے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے ہوں۔ مدینہ میں اس سے بھی کم عرب یہ فن جانتے تھے۔ لیکن دوسری صدی ہجری ہی میں عربی زبان علمی نقطۂ نظر سے دنیا کی متمول ترین زبان بن گئی۔ عربوں میں لسانی ترقی کا زمانہ اتنا مختصر ہے کہ دنیا کی پرانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ حیرت انگیز واقعہ براہ راست قرآن کا کرشمہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues