نجات
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۹۰
طرف سے ماں کو قتل کرنے کے واقعات سے شروع ہوا۔ نا سے دریم لے اس بوتمائی امریکہ کے اندرین قبائل کے قوم (TOTEM) کے مماثل سمجھا اور کہا کہ یہ پودے اور جانور قبیلہ کے سماجی آدرشوں کا نشان تھے جو بالاآخر مذہب کی صورت اختیار کرگئے۔ مگر نہ صرف ٹوٹم کا یہ تصور بغور مطالعہ ثابت نہیں ہوا، مایہ بھی تاریخی طور پر ثابت نہ ہو سکا کہ ٹوٹم کا عقیدہ مذہب کے عقیدہ سے پہلے پایا جاتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ کمزور ور توجیہہ وہ تھی جو آسٹریلیا کے نفسیات داں سگمنڈ فرائڈ نے ۱۹۱۳ میں پیش کی۔ اس نے اپنی کتاب TOTEM and TABOO میں بحرا کاہل کے علاقہ کے بعض قبائل کی کہانی لکھی کہ قدیم زمانہ میں ایک طاقتور باپ خاندان کی تمام عورتوں کو اپنی ذات کے لئے مخصوص کئے ہوئے تھا۔ بعد کو جب لڑکے جوان اور طاقت ور ہوئے اور باپ بوڑھھا ہوگیا تو " ایک دن " انھوں نے مل کر باپ کرتا ہے یا پاؤں کے تلے کے واقعات سے سر کرتا ہے یا یہ کہ مذہب ساری دنیا میں ایک ہی جگہ سے پھیلا ہے یا ہر ملک میں اسی خاص ڈھنگ سے شروع ہوا ۔
مذہب کے آغاز کے نفسیاتی یا سماجی نظریات کے بالکل برعکس کچھ مصنفین نے دعویٰ کیا ہے کہ قدیم ترین مذہبی عقیدہ ایک برتر ہستی کا عقیدہ تھا۔ اینڈریو لینگ (ANDREW LANG) نے ۱۸۹۸ء میں مذہب کی تشکیل اور ولہلم شمٹ (THE MAKING OF RELIGION)
نے خدا کے تصور کی ابتدا (WILHELM SCHMIDT) (THE ORIGIN of the IDEA of GOD)
شائع کی جس میں شدت سے یہ نظریہ پیش کیا گیا۔ لینگ نے طویل سفر کئے اور برس ہارس تک تمام دنیا سے شہادتیں جمع کرتا رہا۔ اور بتایا کہ ایک خدا کا عقیدہ انتہائی ابتدائی لوکل کر ڈالا اور عورتوں کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ سر فریڈ یہ کہ یہ قاتلین اپنے مقتول (باپ) کو کھا گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ باپ کی روح ان کے اندر آگئی، جس سے وہ ڈرتے تھے، جس کو برتر سمجھتے تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے مجھے جانور مقرر کئے جو باپ کی طاقت کا نشان تھے۔ اس کے بعد انھوں نے جشن منانے شروع کئے جس میں وہ طرح طرح سے اپنے ان عقائد کا اظہار کرتے۔ یہی چیز دھیرے دھیرے مذہب بن گئی۔
مگر اس عجیب و غریب نظریہ کے لئے بعد کے محققین کو کوئی تاریخی ثبوت نہ مل سکا۔ ”باپ“ کو مذکورہ بالا شکل میں کھا جانے کی مثال امکانی طور پر ساری تاریخ میں صرف آسٹریلیا میں اور وہ بھی ایک بار ملتی ہے اور وہاں بھی شہادتیں بہت غیر واضح ہیں۔ اس کی کوئی تاریخی، اثریاتی یا اور کوئی شہادت نہیں ہے کہ مذہب اسی طرح بیٹوں کی انسانوں میں پایا جاتا رہا ہے اور اس کو پہلی مذہبی صورت کہا جا سکتا ہے۔ بعد کے مصنفین نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ بہت سے ابتدائی قبائل میں ایک خدا کا تصور پایا جاتا ہے یہ کہا کہ تاہم اسی کے ساتھ دوسرے دیوتاؤں کا تصور بھی ہے۔ اس طرح ”ایک خدا“ کا تصور گویا کئی خداؤں کو ماننے ہی کا ایک جزہ ہے۔
مذہب کے آغاز کے بارے میں پچھلے مفروضوں کے غلط ثابت ہونے کی وجہ سے اب اس میدان میں کام کرنے والے علماء بہت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ اگر مذہب اتنا ہی پرانا ہے جتنا انسانی غور و فکر کی تاریخ پرانی ہے تو وہ اتنے بعید ماضی سے تعلق رکھتا ہے کہ یہ بظاہر نا ممکن ہے کہ اس کے آغاز کی بابت کوئی مسلمہ شہادت مل سکے ۔ رومانی محقق (MIRCEA ELIADA) کے الفاظ میں ” موجودہ زمانہ کے مورخین مذہب جانتے ہیں کہ یہ ناممکن
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues