روداد سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲
کو مذہب اسلام کی دیوار ہی سہارا دے سکتی ہے۔ ۵۔ ایک نیا نصاب تعلیم جس کی بدولت طالب علم دنیا کے تمام مذاہب، تحریکوں، تخریبی کوششوں اور غلط رجحانوں سے مکمل واقفیت حاصل کر سکے۔ مزید برآں یہ نصاب طالب علم کے لئے باعزت اور خوش حال زندگی کی ضمانت دے۔ اگر وہ سیکولر اسٹیٹ میں بھی دعوتِ دین کا کام کرنا چاہے!
گولڈن جبلی (المهدجان الذهبی) میں چند قسم کے پروگرام رکھے گئے تھے :
(۱) تعلیمی کانفرنس جس میں تعلیم کی اہمیت اور مسائل پر تقریریں ہوئیں (۲) مرکز تحقیقات اسلامی و تخصص فی الدعوة کا افتتاح۔ اس سلسلہ میں تقریریں ہوئیں اور مرکز کی مجوزہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ (۳) اسلامی نمائش جس میں اسلامی تاریخ اور تعلیمات ۳- جدید یا قدیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تصنیف و تالیف کی تربیت دینا۔
ہر چان میں شریک ہونے والوں کا ابتدائی اندازہ تین چار ہزار کا تھا۔ مگر آنے والوں کی تعداد تقریباً دس ہزار ہو گئی۔ ہندوستان کے علاوہ جن ملکوں کے وفود اس موقع پر شریک ہوئے، ان کے نام یہ ہیں: سعودی عرب، مصر، قطر، کویت، لیبیا ، اردن ، بحرین ، یمین، امارات عربیہ متحدہ ، زنجبار، سری لنکا، نیز مختلف عرب سفارت خانوں کے نمائندے۔ مجموعی طور پر بیرونی مہمانوں کی تعداد ۵۴ تھی ۔
ارباب جامعہ کی کوششوں سے پہلے ہی مدراس یونیورسٹی سے اس کا الحاق کرایا گیا تھا تاکہ " اس کے فارغین معاشی اعتبار سے قوم پر بوجھ نہ بنیں بلکہ خود کفیل رہ کر دین کی خدمت کریں ۔ " اپ مدینہ کی جامعہ اسلامیہ سے بھی کو چارٹوں کے ذریعہ نمایاں کیا گیا تھا۔ ایک سیٹھ صاحب کو یہ نمائش اتنی پسند آئی کہ اس کو دیکھنے کے بعد انھوں نے اعلان کیا: نمائش کے تمام اخراجات میں تنہا اپنی جیب سے ادا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ (۴) جلسۂ تقسیم اسناد۔
جامعہ دارالسلام عمر آباد کا قدیم منصوبہ یہ تھا کہ وہ اپنے یہاں تصنیف و تالیف کا ادارہ قائم کرے، جہاں اسلام کا تحقیقی کام ہو۔ اب جشن طلائی کے موقع پر اس کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اس ادارہ کے مقاصد یہ ہوں گے: ۱- جدید اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا۔ ۲۔ جدید اسلامی موضوعات پر جو لٹریچر اردو یا عربی میں موجود ہے، اس کا انگریزی اور جنوبی ہند کی زبانوں (تیلگو، کنٹری، ملیالم، تمل) میں ترجمہ کرنا۔ اس کا الحاق ہو گیا ہے۔ سعودی عرب اور قطر وغیرہ سے آنے والے تعلیمی ذمہ داروں نے جشن طلائی کے موقع پر اعلان کیا کہ وہ جامعہ کے فارغین کو اپنے یہاں کی درسگاہوں میں مزید تعلیم کے لئے خوشی کے ساتھ قبول کریں گے۔ جامعہ میں اس وقت طلبہ کی تعداد تقریباً دو سو ہے جن میں کچھ طلبہ سیلون، ملئشیا، مالدیپ اور نیپال کے بھی ہیں ۔ جنوبی ہند وہ مقام ہے جہاں تیرہ سو سال پہلے عرب تاجر اترے اور یہاں اسلام پھیلایا ۔ عرب دنیا میں پٹرول کی دولت ظاہر ہو کر عربوں کو دوبارہ نئی شکل میں یہ موقع دے رہی ہے کہ وہ دوسرے خطوں میں کام کرنے والے اسلامی اداروں کی تقویت کا باعث بن سکیں یہی وجہ ہے کہ آج کل ہندستان کا ہر مسلم ادارہ اپنے شعبہ نشر و اشاعت میں " عربوں سے روابط " کو خاص اہمیت دینے لگا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues