Al-Risala · March 1977 · page 52

روداد سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۲

ان کی زبردست کوشش رہتی ہے کہ اپنے اجتماعات کو عرب مہمانوں کے ذریعہ پر رونق بنا سکیں جو نہ صرف اپنی قرآنی زبان اور عربی لباس کی وجہ سے مسلم حاضرین کے لئے دل چسپی کا باعث ہوتے ہیں بلکہ تالیوں کی گونج میں اپنے ملکوں کی طرف سے گراں قدر مالی عطیات کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ دینی اداروں کے ان عطیات سے کہیں زیادہ مقدار ان کی ان فیاضیوں کی ہے جو وہ ساری دنیا میں سیکولر مقاصد کے تحت کام کرنے والے اداروں کو دے رہے ہیں۔

آج کل یہ صورت حال ہے کہ ہر مسلم ادارہ اپنے "ڈانس" پر عرب شخصیتوں کو بٹھانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اور اگر کسی ادارہ کی دعوت پر کوئی عرب شخصیت ملک میں آگئی تو دوسرے تمام ادارے دوڑ دھوپ شروع کر دیتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کو اڑا کر اپنے ادارہ میں لے جائیں اور وہاں اس کو شان دار استقبالیہ دے سکیں — "عرب پٹرول" نے نہ صرف دنیا کے اقتصادی نظریات کو متاثر کیا ہے بلکہ شاید خود ہماری دینی قدروں کو بھی بدل ڈالا ہے !

گولڈن جوبلی کے سہ روزہ پروگرام میں ملکی شخصیتوں کے علاوہ عرب مہمان بھی مسلسل شریک رہے جو مختلف عرب ممالک سے آئے تھے۔ ان کی رعایت سے تمام کارروائی عربی زبان میں ہوئی ۔ عربی تقریروں کے اردو ترجمے ہوتے تھے ملتا۔ تاہم اس میں ایک خوشی کا پہلو بھی ہے۔ کیوں کہ اس سے قرآن کی زبان کو فروغ ملتا ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی ہے جو خدا کی کتاب کو اس کی اصل زبان میں سمجھ سکیں۔ قرآن اپنی اصل زبان میں ایک حیرت ناک قسم کا طوفانی کلام ہے جو آدمی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے جب کہ ترجمہ کی زبان میں اس کا زور باقی نہیں رہتا۔

اس موقع پر جو تقریریں ہوئیں وہ عام طور پر رسمی اور سرسری قسم کی تھیں۔ کسی تقریر میں اگر کوئی قیمتی نکتہ آیا تو وہ بھی اکثر برجستہ ترجمہ میں چھوٹ گیا۔ مثال کے طور پر ایک عرب مقرر نے اپنی تقریر میں یہ آیت پڑھی: قُلْ ہٰذِہِ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ۔ مقرر موصوف نے اس سے استنباط کیا کہ دعوت الی اللہ کی فرضیت جس طرح پیغمبر پر ہے اسی طرح آپ کے متبعین پر بھی ہے۔ مگر یہ قیمتی نکتہ اردو ترجمہ میں نہ آسکا۔

ایک عرب مقرر نے کہا کہ اسلام سے قبل یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے مکہ پر حملہ کیا۔ اس وقت وہاں کے مقامی عرب مکہ چھوڑ کر پہاڑوں میں بھاگ گئے۔ مگر یہی عرب صرف ۵۰ سال بعد روم اور فارس کی شہنشاہیتوں سے لڑ گئے، جو اس زمانہ میں ویسی ہی تھیں، جیسی آج کل امریکہ اور روس۔ آج کوئی بھی چھوٹی قوم، جیسے کہ اس زمانہ میں عرب تھے، روس اور امریکہ سے متصادم ہونے کی جرات نہیں کر سکتی۔ پھر عربوں کو کس چیز نے یہ حوصلہ اور یقین عطا کیا۔ مقرر نے کہا اور اردو تقریر میں عربی م ترجمہ کی جاتی تھیں۔ یہ رجحان کہ یہ الرمان اور اعتماد علی تھا جن سو سال سے گلی گلی اور اردو تقریری عربی میں ترجمہ کی جاتی ہے۔ یہ رجحان ابھی حال ہی میں ہمارے مسلم اداروں میں پیدا ہوا ہے، ہندوستان میں ہونے والی کسی کانفرنس میں عربی زبان کے غلبہ کا محرک اگر چہ زیادہ تر وہی ہوتا ہے جس کے تحت اس سے پہلے مغل دور میں فارسی اور برطانوی دور میں انگریزی کا رواج کہ یہ ایمان اور احمدی اندھا بس کے دو سال کے درمیانی مدت میں ایک قوم کی کایا پلٹ دی۔

ایک عرب مقرر نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو مشورہ دیا: عليهم ان يهتموا بالحقائق لا بالشكليات ان کو چاہیے کہ حقیقت اور معنویت میں اپنے کو لگائیں نہ کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page