زیادہ دودھ حاصل کیجئے
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴
دے رہے ہیں۔ خود اس کے حریص ہوں۔ اگر یہ باتیں نہ ہوں تو آپ کی دعوت و تبلیغ ایک قسم کا مسخرہ پن ہوگا۔ کوئی بھی شخص اس کو اس قابل نہیں سمجھے گا کہ اس پر غور کرے۔
ہماری جدید تاریخ کا ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ پچھلے تقریبا دوسو برس کے عرصے میں سارے عالم اسلام میں بے شمار بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ ان کو کام کرنے کے بے پناہ مواقع ملے۔ مگر ان کی کوششوں کے حقیقی نتائج صفر کی حد تک کم تھے۔ یہ ناکامی انھیں اس کے باوجود ہوئی کہ ان کو اپنے پروگرام کو بعدے کار لانے کے لئے بہترین وسائل ملے۔ علم، تقدس، اخلاص، شخصیت، قربانی، تعداد، سرمایہ، غرض وسائل و ذرائع کی کوئی ایسی قسم نہیں جو دفتر مقدار میں ان کو حاصل نہ ہوئی ہو۔ مگر ان کی طوفان خیز کوششوں کے نتائج کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے صرف ملت کے قافلے کو پیچھے لے جانے کا کام انجام دیا ہے۔
جو لوگ خدا کے قائل نہ ہوں، یا اس کو زندہ اور فعال نہ مانتے ہوں وہ اس واقعہ کی کوئی بھی خود ساختہ توجیہہ کر سکتے ہیں۔ مگر خدا پر ایمان کا تقاضا ہے کہ اس پورے واقعہ کو ہم سنت اللہ کے تحت سمجھیں اور اس کو براہ راست خدائی معاملہ قرار دیں۔ اس حیثیت سے غور کیا جائے اور اس سلسلہ میں قرآن کو رہنما بنایا جائے تو بلا کسی اشتباہ کے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہماری تحریکوں کی ناکامی کی وجہ صرف یہ تھی کہ انھوں نے وہ اصل کام نہ کیا جس پر خدا نے امت مسلمہ کے لئے نصرت اجتماعی کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری نصرت کا وعدہ اس شرط پر کیا ہے کہ ہم اُس کی نصرت کریں۔ یعنی بندوں کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے باخبر کرنے کے لئے خدائی مشن میں شریک ہوں۔ ہماری مہم دنیوی حقوق کے لئے احتجاج اور مطالبہ کی مہم نہ ہو بلکہ انذار آخرت کی مہم ہو۔ ہم دوسروں کے مقابلہ میں دعوتی تحریک اٹھائیں، نہ کہ سیاسی اور اقتصادی تحریک۔ یہی وہ اصل بات ہے جس نے موجودہ زمانے میں ہماری تمام کوششوں کو حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ کا مصداق بنا دیا ہے۔ ہم نے دنیوی سیاست کے لئے تحریکیں اٹھائیں، اس لئے آسمانی نصرت ہم کو حاصل نہ ہو سکی۔ اب اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو بربادیوں سے بچائیں تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اقوام عالم کے سامنے داعی بن کر کھڑے ہوں سیاسی اور معاشی جھگڑے ترک کرکے جنت اور جہنم کو اصل مسئلہ بنائیں اور اس سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ خدا کی نصرت کوکھینچنے کی واحد صورت یہی ہے، اور جب تک خدا کی نصرت حاصل نہ ہو، ہم کو کسی قسم کی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔
اہل اسلام کی سربلندی، قرآن کی صراحت کے مطابق ایک خدائی انعام ہے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ انعام کسی خاص عمل کے صلہ میں دیا جاتا ہے۔ پھر اہل اسلام کا وہ کون سا عمل ہے جو ان کو اس انعام کا مستحق بناتا ہے۔ وہ وہی ہے جو خود امت مسلمہ کی بعثت کا مقصد ہے۔ یعنی اہل عالم کے سامنے دین کی گواہی دینا۔ لوگوں کو خدا کی مرضی سے باخبر کرنا تاکہ آخرت میں کوئی خدا کے اوپر حجت قائم نہ کر سکے یہی وہ عمل ہے جو اہل اسلام کے لئے خداوندی انعام کا استحقاق پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم اس مطلوب کام کو نہ کریں تو دوسرا کوئی بھی ہنگامہ ہم کو انعام کا مستحق نہیں بنا سکتا۔ دوسرے ہنگامے تو سزا کا مستحق بناتے ہیں نہ کہ انعام کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues