Al-Risala · January 1977 · page 45

زیادہ دودھ حاصل کیجئے

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵

زندگی بعد موت قرآن میں ہے: خدا تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم آخرت کو پہچان لوگے (نمل - آخر) موجودہ زمانہ میں بعض مظاہر کے علمی مطالعہ سے زندگی بعد موت پر جو دلائل قائم کئے جارہے ہیں، وہ ممکن ہے اسی قسم کی نشانیوں کا ظہور ہو۔ ہماری موجودہ دنیا اور موت کے بعد کی دنیا کے درمیان شاید بعض روزن کھلے رکھے گئے ہوں تاکہ انسان اپنی زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے اس سے آگاہ ہو جائے۔

۲۰ جون ۱۹۷۶ کی ملاقات میں شری مول چند جی (پیدائش ۱۸۸۸ء) نے اپنی اہلیہ کا واقعہ بتایا۔ یہ سجن ملتان کے رہنے والے تھے۔ ۱۹۴۷ء میں دہلی آگئے۔ اب ایسٹ پٹیل نگرنئی دہلی میں اپنے لڑکے کے ساتھ مقیم ہیں ان کی اہلیہ شریمتی تلسی بائی (۱۸۹۵۔ ۱۹۶۵ء) بڑی نیک اور مذہبی خاتون تھیں۔ وہ ملتان میں ۱۹۱۹ء میں بیمار ہوئیں۔ حالت خراب ہوئی ۔ یہاں تک کہ ایک روز نبض کی حرکت اور سانس رک گئی۔ لوگوں نے سمجھ لیا کہ ان کی موت ہو چکی ہے، ناک میں روئی ڈال دی گئی اور آخری رسوم کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ یہ کیفیت تقریباً پندرہ منٹ رہی۔ اس کے بعد اچانک ان کے اندر حرکت ہونے لگی، انھوں نے آنکھ کھول دی اور دوبارہ "زندہ" ہو گئیں۔

"میں کہاں تھی"، انھوں نے اٹھتے ہی کہا۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ چند آدمی آئے ہیں اور مجھ کو لے کر ایک سرنگ جیسے گول راستہ سے روانہ ہوئے ہیں۔ چلتے چلتے ہم لوگ ایک جگہ پہنچے۔ یہاں راج دربار لگا ہوا تھا۔ آس پاس بڑے سندر باغیچے تھے ایسے جو کبھی دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ وہاں ایک رعب دار آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے ایک بہت بڑی کتاب پھیلی ہوئی تھی جس پر لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ لانے والوں نے میرا نام بتایا تو وہ بولا " تم غلط آدمی لائے ہو، اس کو جلدی لوٹاؤ۔ " اس طرح میں دوبارہ یہاں واپس آگئی ۔

یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ " دوسری دنیا سے واپسی" کا یہ تجربہ بہت سے لوگوں کو پیش آیا ہے۔ حتی کہ جدید نفسیات میں یہ ایک مستقل مطالعہ کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ میں بارہ سالہ لڑکی کا واقعہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وہ ایک بار مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھی۔ اس نے حیرانی و پریشانی کے عالم میں اپنے والدین کو بتایا : "موت کی وادی میں میری ملاقات اپنے چھوٹے بھائی سے ہوئی۔ وہ بڑی محبت کے ساتھ۔ مجھ سے ملا۔ میں اس کی دنیا سے واپس نہیں آنا چاہتی تھی۔ مگر مجھ کو دوبارہ یہاں واپس بھیج دیا گیا۔ " اس نے کہا " یہ ملاقات میرے لئے بڑی عجیب تھی کیونکہ میرا تو ابھی تک کوئی بھائی نہیں ۔ " لڑکی کے والدین یہ بات سن کر حیران رہ گئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لڑکی کا ایک بھائی تھا جو چھوٹی عمر میں مر گیا تھا اور لڑکی کو اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ موجودہ تجرباتی سائنس نے موت یا دوسری دنیا کے مسئلہ کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا تھا کہ وہ محض ایک تصوراتی چیز ہے، سائنسی طریقے سے اس کا مطالعہ نہیں کیا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page