Al-Risala · August 1977 · page 57

الرسالہ، اگست ۱۹۷۷، صفحہ ۵۷

الرسالہ، اگست ۱۹۷۷، صفحہ ۵۷

ابھی صرف بیسویں صدی میں کیا جا سکا ہے۔

ڈاکٹر ڈبلیو۔ جی۔ ساکٹ (Dr W.G. Sackett) جو اس سے پہلے فورٹ کولنس کے کولو ریڈو ایگریکلچرل کالج سے متعلق تھے، وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ شہد بیماریوں کو پھیلاتا ہے اور اس میں جراثیم اسی طرح پلتے ہیں جس طرح زود ہضم میں۔ مگر ان کو بے حد تعجب ہوا جب اس کے برعکس انھوں نے دیکھا کہ وہ تمام بیماری کے جراثیم جو انھوں نے خالص شہد میں ڈالے، بہت جلد مرگئے ۔ وہ جراثیم جو ٹائیفائڈ کا بخار پیدا کرتے ہیں ، وہ خالص شہد کے اندر ۴۸ گھنٹے میں مکمل طور پر ختم ہوگئے ۔ وہ جراثیم جو آنتوں کا ورم پیدا کرتے ہیں ، وہ بھی شہد میں صرف ۴۸ گھنٹہ تک زندہ رہ سکے۔ گلے کی بیماریاں پیدا کرنے والے بعض جراثیم کافی سخت جان ثابت ہوئے ۔ تاہم وہ بھی شہد کے اندر چار دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکے۔ جراثیم کی ایک قسم جو چھوت کی خطرناک بیماریاں پیدا کرتی ہے ، وہ تجربہ کے پانچویں روز مردہ پائی گئی۔

شہد کی اس جراثیم مار خصوصیت کی وجہ ڈاکٹر بوڈوگ بیک (Dr Bodog Beck) کے نزدیک یہ ہے کہ شہد کے اندر رطوبت کو جذب کرنے کی صلاحیت (Hygroscopic Ability) ہے۔ شہد سادہ طور پر صرف یہ کرتا ہے کہ وہ جراثیم کے اندر کی رطوبت کی تمام مقدار مکمل طور پر کھینچ لیتا ہے۔ جراثیم، دوسری تمام ذی حیات اشیاء کی طرح، پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے اس لئے شہد جب ان کی ساری رطوبت کھینچ لیتا ہے تو وہ فوراً مر جاتے ہیں۔

شہد کی رطوبت کو جذب کرنے کی صلاحیت تقریباً لامحدود ہے۔ اس کی یہ قوت اتنی زبردست ہے کہ وہ لوہا، شیشہ اور پتھر تک کی رطوبت کو کھینچ لیتا ہے۔ Rosicrucian Digest California 95191 U.S.A. September 1975, P. 11 خدا فضا سے انسان کے لئے پانی برساتا ہے۔ مویشی کے پیٹ سے لذیذ دودھ نکالتا ہے۔ درختوں سے طرح طرح کے میٹھے پھل پیدا کرتا ہے۔ مکھیوں کو اس نے شہد جیسی قیمتی چیز تیار کرنے کا کارخانہ بنا دیا ہے۔ پھر بھی انسان خدا کی کاریگری پر غور نہیں کرتا، پھر بھی انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1977 All issues

Printed page