Al-Risala · August 1977 · page 59

باریے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۷، صفحہ ۵۹

میلے میلے ہو تو پھر کس کے اندر کوئی خوشی کی کیفیت گ نبوت کے چھٹے سال جب عمر فاروق رض الاسلام لائے تو انھوں نے مسجد حرام میں جاکر اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ قریش کے لوگ ان سے لپٹ گئے۔ دیر تک مقابلہ ہوتا رہا۔ بالآخر حضرت عمر رض نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :

"جو تمھارے جی میں آئے کرو۔ خدا کی قسم اگر ہم تین سو آدمی ہو جائیں تو پھر یا ہم اس سرزمین کو تھمھارے لئے چھوڑ دیں گے یا تم اس کو ہمارے چھوڑ دو گے ؟

باریے

نبوت کے چودھویں سال بدر کے واقعہ نے ثابت کر دیا کہ آپ کا یہ ارشاد اس قدر صحیح تھا۔

حضرت عمر فاروق رضہ کی خلافت کے زمانہ میں عمروبن العاص رضہ مصر کے محاذ پر تھے انھوں نے لکھا کہ فتح میں تاخیر ہو رہی ہے۔ خلیفہ دوم نے جواب میں لکھا : ا ت ک ں ح ت ا ل م ر ك م ا ر ت ك ى ا د م ش ا ر آ د م م ل ر ك م ا ر ت ك ى ا ر ك م د ق أ د ك گى م وہ تم کو جاننا چاہیے کہ تمھارے ساتھ بارہ ہزار آدمی ہیں اور بارہ ہزار بھی قلت کی وجہ سے شکست نہیں کھاتے۔ "

فاروقِ اعظم کے اس ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ تین سو آدمی انقلاب لانے کے لئے بالکل کافی ہیں۔ اور اگر یہ تعداد بارہ ہزار تک پہنچ جائے تو پھر فریقِ ثانی کی کسی بھی تعداد کے مقابلہ میں محض عددی کمی کی بنا پر شکست نہیں ہو سکتی ۔ مگر یہ دیکھئے کہ موجہ دو جہاں میں ہماری ایک ایک جان ہوتی ۔ بلکہ ایک ایک قائد کو مرہم دیتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں ہماری ایک جماعت بلکہ ایک ایک قائد کو لاکھوں کی تعداد میں کارکن ملے۔ مگر وہ اسلام کی تاریخ میں ناکامی کی مثالوں کے سوا کسی چیز (الاسلام ، صفحه ۱۷۳)

کا اضافہ نہ کر سکے ‘‘ (الاسلام)

اس موضوع کی تفصیل کے لئے اسلام کا مطالعہ کیجئے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1977 All issues

Printed page