مولانا وحید الدین خاں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲
روزہ
اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، روزہ یہ ہے کہ آدمی علائق دنیا سے اپنے آپ کو کاٹ لے۔ اس قسم کی روزہ داری سے کیا فائدہ حاصل کرنا مقصود ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ انسانی وجود کا مادی پہلو کمزور ہو اور اس کی روحانیت بڑھے تاکہ عالم قدس سے اس کا اتصال ممکن ہو سکے جسم کی مادی غذا کے مقابلہ میں روزہ کا مقصد روح کو معنوی غذا پہنچانا ہے۔
آدمی جب اپنے آپ کو مادی دنیا سے اٹھاتا ہے اور روحانی دنیا سے مربوط ہوتا ہے تو حیرت انگیز طور پر وہ محسوس کرتا ہے کہ علم حقیقت کا ایک نیا دروازہ اس کے سامنے کھل گیا ہے۔ وہ سارے واقعات جو مادی غلاف میں لپٹے ہونے کی وجہ سے اس کو دکھائی نہیں دیتے تھے، اب اسے نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ اس بلندی پر پہنچ جاتا ہے جو انسان کی آخری معراج ہے۔ اسی راہ سلوک کا ایک مقام وہ ہے جب آدمی مادی غلاف سے اتنا زیادہ گزر جاتا ہے کہ عالم حقائق اس کو بالکل بے نقاب شکل میں دکھائی دینے لگتا ہے۔ روزہ کی یہی حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن میں، حکم روزہ کے درمیان، یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بندوں کے قریب ہے اور پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے۔ (الاسلام ۴۳-۴۴)
فہرست قبر کا دروازہ ١ روزہ ٢ عمل کی مصنوعی سطح ۳ نبوت محمدی : ایک عظیم احسان ۴ خارجی ہدایت کی ضرورت ۵ فطرت میں توازن ۶ علوم اسلامی کی تدوین ۷ المركز الاسلامی ۸ ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا ۹ کام کی برتر سطح ۱۰ ستاروں کی دنیا ۱۱ حبش کی ہجرت ۱۲ تاریخ کا مطالعہ ۱۳ الاسلام : ایک رائے ۱۴ ایجنسی الرسالہ کی شرائط ۱۵ مراسلات ۱۶ بلند فکری ۱۷ خلیج کے کنارے ۱۸ کائنات کی خاموش زبان ۱۹ تعارف و تبصرہ ۲۰ ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ماہنامہ الرسالہ جمعیتیہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی - ۶
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues