Al-Risala · September 1977 · page 3

مولانا وحید الدین خاں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳

عمل کی حقیقی سطح پر آدمی ناکام رہتا ہے، اور مصنوعی سطح پر کامیابی کے جھنڈے لہرا رہا ہے امریکہ میں انسانی حقوق کے عنوان پر ایک بین اقوامی سمینار ہو، اس کے لئے آپ کے پاس دعوت نامہ آئے، آپ ہوائی جہاز سے اڑ کر امریکہ پہنچیں اور وہاں شان دار اسٹیج پر ایک تقریری ریکارڈ دہرائیں ۔ تو یہ خبر فوراً اخبار میں چھپ جائے گی ۔ اس کے برعکس اگر آپ کو آخرت کا ڈر ہے ۔ اور جہنم کے اندیشے کے تحت آپ لوگوں کے حقوق ادا کرتے ہیں تو یہ واقعہ کبھی اخبار کی سرخی نہیں بنے گا ۔ آخر الذکر ، عمل کی حقیقی سطح ہے ۔ اول الذکر ، عمل کی مصنوعی سطح ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہر شخص ، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ، عمل کی مصنوعی سطح پر زندگی گزار رہا ہے ۔ وہ ان امور میں تو خوب کار نامہ دکھاتا ہے جن میں نیوز ویلو ہو ، جن سے اس کی امیج بنتی ہو، جن میں عزت و جاہ کے استقبالئے وصول ہوتے ہوں ، جن میں حق کی علم برداری کا عالمی کریڈٹ ملتا ہو، جو اس کو اخبار کی سرخیوں میں جگہ دینے والے ہوں ۔ مصنوعی سطح کی چمک دمک نے لوگوں کو اتنا زیادہ اپنی طرف کھینچ رکھا ہے کہ عمل کی حقیقی سطح کی طرف توجہ دینے کی کسی کو فرصت نہیں۔ دوسری طرف لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی معاملہ پڑ جائے تو وہ کچے ثابت ہوں، کسی سے اختلاف پیدا ہو تو انصاف پر قائم نہ رہ سکیں، ان کی غلطیاں روز روشن کی طرح واضح ہو جائیں جب بھی وہ اعتراف نہ کریں۔ ایک مظلوم ان سے بے لاگ فیصلہ کی امید نہ کر سکے۔ خدا کی کھلی کھلی نشانیاں ظاہر ہوں مگر وہ عبرت نہ پکڑیں ۔ وہ اپنے دل کو حسد ، بغض ، کینہ ، نفرت ، عصبیت سے پاک نہ کریں۔ وہ طاقت کے آگے جھک جائیں ، مگر دلیل کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ خدا کی آیتیں سن کر ان کے دل نہ دہلیں اور آخرت کی جواب دہی کے خوف سے ان کے جسم کے رونگٹے کھڑے نہ ہوں ۔

لوگ عمل کی مصنوعی سطح پر کامیابی کے جھنڈے لہرا رہے ہیں ۔ اور عمل کی جو حقیقی سطح ہے وہاں ناکامی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں۔ جلسوں اور کنونشنوں کی دھوم ہے، جہاد اور انقلاب کے نعرے لگ رہے ہیں۔ دوسری طرف خاموش تعمیری کام کا سارا میدان خالی پڑا ہوا ہے اور اس کے لئے کوئی نہیں اٹھتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page