علوم اسلامی کی تدوین
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶
کی ہر چیز مقدّس بن جاتی ہے۔ چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ اس متوازی دین میں تقدّس کا عنصر بھی شامل ہوتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ اب کوئی شخص یہ سوچ یں سکتا کہ فقہ کی کتابوں میں کوئی مسئلہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو قرآن وسنت کی منشا کے مطابق نہ ہو۔ صوفیا کے ملفوظات اور قصّوں میں کسی غلطی کا بھی امکان ہے۔ یا مروّجہ معقولات میں بھی کوئی چیز ایسی ہوسکتی ہے جس کو غیر معقول کہا جائے ــــــــ اس کے بعد قرآن کو جہاں جگہ مل سکتی تھی، وہ صرف برکت کا خانہ تھا۔ وہ برکت کی حیثیت سے کتاب تلاوت بن کر رہ گیا۔ حتیٰ کہ جن لوگوں نے قرآن کی تفسیریں لکھیں، ان کے سامنے بھی یا تو ’’ثواب‘‘، حاصل کرنا تھا یا یہ تھا کہ فقہ، تصوّف یا معقولات میں اپنے مخصوص نقطہ نظر کو خدا کی کتاب سے ثابت کر دکھائیں۔ الا ماشاء اللہ۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہ اور تصوّف اور علم کلام کی شکل میں جو اضافے اسلام میں ہوئے، ان کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ قرآن کا سرا امت کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ان اضافوں نے دین کو ایک قسم کا فن بنا دیا۔ کتاب الہیٰ میں جو چیز سادہ اور فطری انداز میں بتائی گئی تھی، اس میں اپنی طرف سے موشگافیاں کر کے نئے نئے مسئلے پیدا کئے اور بطور خود بے شمار اصطلاحات وضع کیں تاکہ ان کو فنی انداز میں بیان کیا جاسکے۔ اس طرح دین خداوند ی ایسے احکام ومسائل کا مجموعہ بن گیا۔ جو صرف فنی کتابوں کے مطالعہ سے جانا جاسکتا ہو۔ کتاب الہیٰ کے ذریعہ اس کو معلوم کرنا ممکن نہ ہو۔ آج کسی کو نماز کے ’’مسائل‘‘ جاننا ہوں تو اس کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ وہ اس مقصد کے لئے قرآن کا مطالعہ کرے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نماز کے مسائل تو فقہ کی کتابوں میں ملیں گے۔ کسی کو روحانی ترقی مطلوب ہو تو اس کو بھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ خدا کی کتاب لے کر بیٹھے اور اس میں روحانی سلوک کے طریقے تلاش کرے۔ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ کسی ’’بزرگ‘‘، کے پاس پہنچ جاتا ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فنِ روحانیت کے آداب تو فنِ روحانیت کے کسی ماہر ہی سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح کسی کو یہ شوق ہو کہ وہ اسلام کی دعوت کو عقلی طور پر مدلّل کرے تو وہ قرآن میں اس کے نکتے نہیں ڈھونڈے گا بلکہ معقولات میں غرق ہو جائے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس فن کی باریکیاں صرف معقولات کی کتابوں سے حاصل کی جاسکتی ہیں ــــــــ قرآن اس لئے اتارا گیا تھا کہ لوگ اس میں تدبّر (ص۔ ۲۹) کرکے اپنے لئے رہنمائی حاصل کریں ۔ مگر قرآنی تعلیمات کو فن بنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن، کتاب تدبّر نہ رکا، کتاب تلاوت بن گیا جس کا آخری استعمال یہ تھا کہ اس کو ہر روز یا ہر ہفتہ بس ’’ختم‘‘ کر لیا جایا کرے لوگ اپنے دین کو اپنے احبار و رہبان سے اخذ کرنے لگے اور قرآن کو برکت کی حیثیت سے جزو دان میں لپیٹ کر رکھ دیا۔ ایسا ہونا بالکل فطری تھا، کیوں کہ جن نکتوں اور موشگافیوں کو انھوں نے دین سمجھ رکھا تھا، وہ قرآن کے اندر موجود ہی نہ تھے۔ خدا کی کتاب سے محرومی کا یہ معاملہ اسی حد پر نہ رہا بلکہ وہ ہماری پوری زندگی پر چھا گیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری امور کی تفصیل بیان کر دی ہے (اسرار۔ ۱۳) وہ ہر معاملہ میں مومن کی ذہنی غذا ہے۔ مگر مذکورہ عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ذہن ہی ختم ہو گیا کہ اسلام اور ملّت اسلام کے تمام مسائل کو ہم قرآن میں تلاش کریں، قرآن کو خالی الذ ہن ہوکر دیکھئے تو بلا اشتباہ نظر آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نہ وہ اس بات کو جانے کہ مرنے کے بعد اسے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues