Al-Risala · September 1977 · page 17

علوم اسلامی کی تدوین

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷

اپنے رب کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ اس آنے والے دن سے تمام قوموں کو باخبر کرنا ہی امت محمدی کا اصل مشن ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور میں اٹھنے والی بے شمار تحریکوں میں سے کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک ایسی نہیں جو اس خاص مقصد کو لے کر اٹھی ہو۔

موجودہ زمانہ میں جو لوگ احیائے اسلام کے لئے اٹھے، وہ اگرچہ عالم تھے اور قرآن کو پڑھتے تھے مگر ان کا شاکلہ فقہ اور تصوف اور علمِ کلام نے بنایا تھا۔ یہی چیز ہے جس نے قرآن کی صراطِ مستقیم سے لوگوں کو ہٹا دیا۔ ان میں سے جن کے اوپر کلامیات کا غلبہ تھا، اس کے ذہن میں خدمتِ دین کے شوق نے مناظرہ کی صورت اختیار کرلی، جو لوگ متصوفانہ ذہن رکھتے تھے، وہ خانقاہی طرز کی تعلیم و تربیت میں ملت کا مستقبل تلاش کرنے لگے۔ اسی طرح جن کا ذہن فقہ کے سانچے میں بنا تھا، وہ اسلام کو بطور ایک ”نظام“ کے دیکھنے لگے، جس کو بروئے کار لانے کی واحد شکل یہ تھی کہ حکومتِ الہیہ قائم کرکے اسلام کے دیوانی اور فوجداری قوانین کو نافذ کیا جائے۔ یہ نقطہ نظر عوام تک میں اس طرح سرایت کرگیا کہ اسلام کے اصل کام کے لئے ان کے اندر کوئی اپیل نہیں رہی۔ ان کی فہرست میں صرف دو کام ثواب کے کام کی حیثیت سے باقی رہ گئے۔ مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیر کے لئے چندے دینا، یا ”بزرگوں“ کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنا۔ ان کے سوا کوئی اور کام انھیں دینی کام نظر نہیں آتا، اس لئے اس میں ان سے تعاون کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔

ایک خالی الذہن شخص ہمارے اسلامی کتب خانہ کو دیکھے تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک اختلاف کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ دین منزّل اور دین مدون کا اختلاف ہے جو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کے اندر پیدا ہوگیا ہے۔ خدا کا دین قرآن و حدیث میں ایک سادہ اور فطری چیز نظر آتا ہے۔ وہ دلوں کو گرما تاہے اور عقل میں جلا پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی الہی علوم جب انسانی کتابوں میں مدون ہوکر ہمارے سامنے آتے ہیں تو اچانک وہ ایک ایسی شکل اختیار کرلیتے ہیں جس میں خشک بحثوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ ان میں نہ دلوں کے لئے گرمی ہے اور نہ عقل کے لئے روشنی۔ قرآن میں بھی فقہ ہے مگر وہ کنز الدقائق (ابو البرکات نسفی) کی فقہ سے مختلف ہے۔ قرآن میں بھی تصوف ہے مگر ضیاء القلوب (حاجی امداد اللہ مہاجر مکی) کے تصوف سے اس کو کوئی مشابہت نہیں۔ اسی طرح قرآن میں بھی معقولات ہیں مگر شمس بازغہ (ملا جیون جونپوری) کی معقولات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین بذاتِ خود کوئی غیر مطلوب چیز تھی ۔ وہ بلا شبہ مطلوب تھی۔ مگر اس نے بعد کی صدیوں میں جو رخ اختیار کر لیا وہ صحیح نہ تھا۔ اسلامی علوم کی تدوینِ تذکیری طرز پر مطلوب تھی نہ کہ فنی طرز پر جیسا کہ عملاً وقوع میں آیا۔ دین کو ذکر و نصیحت کی خاطر آسان (قمر۔ ۱۷) بنایا گیا تھا۔ مگر ہم نے اپنی پیچیدہ بحثوں سے اس کو مشکل بنا دیا۔

قرآن کو ذکر یعنی نصیحت (یٰس - ۶۹) کہا گیا ہے۔ قرآن میں غور و فکر (ص۔ ۲۹) اور علمی اضافہ (ز مر - ۳۹) وہی مطلوب ہے جس سے ذکر اور نصیحت حاصل ہو۔ مزید یہ کہ علوم قرآنی کی تفصیل و تبیین کس طرح کی جائے، اس کا بھی واضح نمونہ سنتِ رسول میں موجود تھا کیونکہ آپ اس کے لئے خدا کی طرف سے مامور تھے (نحل - -۴۴) اور آپ نے اس کو

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page