Al-Risala · September 1977 · page 18

عَلَيْهِمْ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸

انتہائی مکمل شکل میں انجام دیا۔ یہ تمام چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس میں فنی اضافہ کیا جائے یا اللہ اور رسول نے جو احکام دئے ہیں ، ان میں مزید استخراج کر کے نئے نئے مسائل وضع کئے جائیں اور قرآن ، جس میں امام غزالی کے نزدیک صرف پانچ سو احکام ہیں، اس کو پانچ سو ہزار احکام کا مجموعہ بنا دیا جائے۔ علوم اسلامی کی تدوین کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس میں بطور تمہین و تفصیل وہ چیزیں شامل کی جائیں جن میں ذکر اور نصیحت کا سامان ہو۔ قرآن میں ہم کو جو باتیں بتائی گئی ہیں ، ان کے بارے میں جہاں یہ ہے کہ ان کو مضبوطی سے پکڑو، اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات پر غور اور تدبر کرو (ص۔ ۲۹) قرآن میں تفصیلات اور معانی کی تلاش بجائے خود ایک پسندیدہ چیز ہے۔ مگر یہ تلاش تذکیر و نصیحت کے اجزاء تلاش کرنے کے لئے ہونا چاہئے نہ کہ فنی تعینات اور قانونی فروعات ڈھونڈنے کے لئے۔

آج اگر کسی بستی کے لوگ دار الافتاء کو یہ مسئلہ لکھ کر بھیجیں کہ ہماری مسجد کا مسقف حصہ نمازیوں کی بڑھی ہوئی تعداد کے لئے تنگ ہورہا تھا اور مسجد کے موجودہ رقبہ میں اضافہ کی صورت نہ تھی۔ اس لئے ہم نے مسجد کے پورے صحن پر چھت ڈال دی۔ اب مشکل یہ پیش آگئی کہ مسجد میں صحن باقی نہ رہا۔ ایسی حالت میں کیا موسمی ضرورتوں کے تحت مسجد کی کھلی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ، تو ہمارا مفتی فوراً ایک شرعی مسئلہ کی حیثیت سے اس کا جواب دینے بیٹھ جائے گا اور لکھے گا کہ فلاں فلاں شرطوں کے ساتھ مسجد کی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ ہر چیز کو ”شرعی مسئلہ بنانا قطعاً اسلام کے خلاف ہے۔ یہ تو وہ یہودیت ہے جس کو مٹانے کے لئے نبی آخر الزماں کو مبعوث کیا گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے میں یہ حال تھا کہ جب اس قسم کا کوئی سوال کیا جاتا تو سائل کو کوئی متعین جواب نہ دیا جاتا بلکہ یہ کہا جاتا کہ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ اپنے حالات کے لحاظ سے جیسا مناسب سمجھو وہ ایسا کرلو۔ احادیث و سیر کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں کہ کسی سوال کے جواب میں ”مسئلہ “ بتانے کے بجائے خود سوال کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ مگر آج کے فقیہہ اور مفتی کے یہاں اس قسم کا کوئی خانہ نہیں۔ اس کے یہاں ہر چیز ایک شرعی مسئلہ ہے اور ہر بات کے جواب میں وہ اپنی فقہ کی کتابوں سے کوئی نہ کوئی جزئیہ دریافت کر لیتا ہے جس کی روشنی میں وہ سائل کو مسئلہ کی شرعی صورت بتا سکے۔

نزولِ قرآن کے وقت یہود سے کہا گیا تھا :

وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ یہ نبی ان پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

(اعراف - ۱۵۷)

عَلَيْهِمْ

مطلب یہ کہ یہودی فقیہوں نے اپنی قانونی موشگافیوں سے اور ان کے روحانی مقتداؤں نے اپنے تو رع کے مبالغوں سے ان کی زندگی کو جن بوجھوں کے نیچے دبارکھا ہے اور جن خود ساختہ بندشوں میں انھیں جکڑ رکھا ہے ، یہ پیغمبر ان سے انھیں آزاد کرتا ہے اور دین خدا وندی کو اس کی بے آمیز شکل میں ان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ آج پیغمبر آخر الزماں کی امت خود انھیں ” اصرا و اغلال “ کے نیچے دب چکی ہے۔ ان کے فقہا رموشائخ نے اسلام میں وہ سارے اضافے کر ڈالے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page