Al-Risala · September 1977 · page 29

ستاروں کی دنیا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹

ستاروں کی دنیا

قدیم زمانے میں ستاروں کی بابت انسان کا علم محض قیاسات ومفروضات پر مبنی تھا جن کو علم نجوم (ASTROLOGY) کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے۔ سترھویں صدی میں دوربین کی ایجاد اور پھر نئے نئے آلات کے استعمال کے بعد انسان کی معلومات میں اضافہ ہوا اور فلکیات (ASTRONOMY) وجود میں آئی۔ موجودہ زمانے میں فلکیات کا علم مزید آگے بڑھا ہے اور کائنات کے آغاز، اس کی تاریخ اور اس کے انجام کی بابت تحقیق کی جارہی ہے۔ اس نئے علم کو کاسمولوجی کہا جاتا ہے۔ اسی کے (COSMOLOGY) ساتھ متعدد ذیلی علوم بھی پیدا ہوئے ہیں مثلاً ریڈیائی فلکیات (RADIO ASTRONOMY) وغیرہ۔

کائنات کے فاصلے

کائنات کے فاصلے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو ان عام پیمانوں سے ناپا نہیں جاسکتا جن کو ہم زمینی فاصلوں کو بتانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، چنانچہ فلکیات دانوں نے اس کے لیے ایک خاص پیمانہ وضع کیا ہے جس کو نوری سال کہتے ہیں۔ (LIGHT YEAR) روشنی ایک سیکنڈ میں .. ہمہ میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ یعنی ایک سال میں ۶۰ کھرب میل ۔ اسی فاصلہ کو فلکیات میں سال نور کہا جاتا ہے اور کائناتی فاصلوں کو ناپنے کے لیے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔

سورج ہماری زمین سے روشنی کے آونٹ کے فاصلہ پر ہے۔ یعنی اس کی روشنی مذکورہ رفتار سے سفر کرکے ہم تک نو منٹ میں پہنچتی ہے۔ زمین سے سورج کا فاصلہ ۹۳ ملین میل ہے۔ سورج کے بعد دوسرا ستارہ جو زمین سے سب سے زیادہ قریب ہے وہ الفا سنٹوری (ALPHA CENTAURI) ہے، وہ ۱۳٫۴ رہم نوری سال دور ہے ۔ یعنی ۲۵۰ کھرب میل ۔ ہماری کہکشاں جس میں تقریباً ۱۰۰ ہزار ملین ستارے ہیں، ایک عظیم پلیٹ کی مانند ہے جس کی موٹائی دس ہزار نوری سال ہے اس کا قطر (DIAMETER) تقریباً ایک لاکھ سال نور ہے۔ سورج ہماری کہکشاں کے مرکز سے ۳۳۰۰۰ نوری سال دور ہے۔ اس قسم کی کہکشائیں بے شمار تعداد میں ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں۔ فلکیات دانوں کا خیال ہے کہ کائنات کا دائرہ (RADIUS) کم از کم ۱۰ہزار ملین سال نور ہے۔ اس وسیع کائنات میں فلکیات داں اپنی دوربینوں کے ذریعہ آٹھ ہزار ملین سال نور تک دیکھ چکے ہیں۔

جدید فلکیات

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page